خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد۳ 694 خطبه جمعه ۲۳ نومبر ۱۹۸۴ اور صرف بلاتی ہی نہیں بلکہ اس کے سارے طریق بھی سکھاتی ہے۔عجیب کلام ہے خدا کا روح فدا ہوتی ہے اور سجدے کرتی ہے جب اس پر غور کرتے ہیں۔پس میں تمام دنیا کے احمدیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سے بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور خصوصاً اہل ربوہ ، اہل ربوہ کو تو اس لئے بھی اٹھانا چاہئے فائدہ اس موقع سے کہ اگر وہ نہیں اٹھا ئیں گے تو لوگ مجھے طعنے دیں گے اور دیتے ہیں۔پچھلی دفعہ جو دو خطبے پہلے میں نے اہل ربوہ کے غریبوں ، درویشوں سے محبت کا اظہار کیا۔اول طور پر تو میرے ذہن میں وہاں کے واقفین زندگی ، وہ لوگ جو خدا کی خاطر ہجرت کر کے آئے ، وہاں بیٹھ رہے وہی تھے لیکن عام غر با بھی واضح طور پر میرے پیش نظر تھے تو بعض لوگوں نے یہ طعنہ شروع کر دیا کہ فلاں مزدور بے ایمانی کرتا تھا ، فلاں صناع پیسے کھا گیا، فلاں تاجر دھو کے باز ثابت ہوا تو امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح ماں کسی بچے سے زیادہ پیار کرے تو اس بچے کے طعنے ماں کو ملا کرتے ہیں۔کوئی معمولی سی بھی حرکت بے چارہ کر بیٹھے تو ماں کا سینہ چیر دیتے ہیں لوگ کہ تمہارے بچے نے یہ حرکت کی تم تو بڑی تعریفیں کیا کرتی تھی۔وہی کیفیت میرے ساتھ کی جاتی ہے، غیر بھی لکھتے ہیں، غیر احمدیوں کے خط آنے شروع ہو گئے کہ آپ تو جماعت کے متعلق یہ باتیں کرتے ہیں اور اچھی روحانی جماعت بن رہی ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پیسے کھا گیا ، فلاں شخص نے اپنی بیوی سے ظلم کیا، فلاں نے بچے سے حسن سلوک نہیں کیا۔عورتوں نے خط لکھنے شروع کر دیئے ہیں ، یہ اچھے درویش ہیں جو بیویوں کا حق ادا نہیں کرتے ، یہ اچھی نندیں ہیں جو بھائیوں کو بیویوں کے خلاف کرتی ہیں، ان کے ذہن میں گندی باتیں بھرتی ہیں ان کی بیویوں سے متعلق ، یہ اچھی مائیں ہیں جو اپنے بیٹوں کے گھر اجاڑ رہی ہوتی ہیں۔یہ ایک دو کی بات نہیں ہے بیسیوں خط اس مضمون کے آتے ہیں اور ہر خط مجھے تکلیف پہنچاتا ہے اور یہ جائز ہے اور اس لحاظ سے ان کا حق ہے کہ مجھے لکھیں اور جو اس کے نتیجہ میں مجھے دکھ پہنچتا ہے وہ میرا کام ہے کہ اسے حوصلے سے برداشت کروں اور اس کو بھی استعمال کروں جماعت کی اصلاح کے لئے ، یہ بھی تو ایک جذبہ ہے اور یہ بھی تو ایک توانائی ہے۔پس ان سب باتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں اہل ربوہ کو خاص طور پر کہتا ہوں خواہ ان کے