خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد۳ 685 خطبه جمعه ۲۳ / نومبر ۱۹۸۴ خوف کا یہ اثر ہے اور دوسری جگہ فرمایا کہ دوسری طرف ایسے بھی تیرے غلام ہیں فَزَادَهُمْ إِيمَانًا ( آل عمران : ۱۷۴) اسی خوف نے ان کے ایمان کو بڑھا دیا ہے ان کے اندر نئی زندگی پیدا ہوگئی ہے۔پھر ایک اور جگہ خوف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجده: ۱۷) که عجیب خدا کے بندے ہیں کہ جن پر خوف طاری ہوتا ہے تو بجائے اس کے کہ ان کی امیدیں لے جائے ، ان کی امنگوں کو کھا جائے ، وہ خوف ، جب وہ تیرے حضور رات کو اٹھ کر جھکتے ہیں اور اپنے خوف کو استعمال کرتے ہیں دعاؤں کیلئے تو وہ مایوسی کی بجائے طمع کا موجب بن جاتا ہے۔خَوْفًا وَطَمَعًا دونوں کو اکٹھا استعمال فرمایا حالانکہ بظاہر خوف کے ساتھ طمع کا تعلق کوئی نہیں۔جب خوف ہو تو امیدیں، تمنائیں ساری ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ خوف کوئی آرزو باقی نہیں چھوڑتا لیکن خدا کے پاک بندوں پر خوف کا ایک بالکل مختلف اثر پڑتا ہے۔وہ چونکہ خوف کے نتیجہ میں خدا کے حضور اٹھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں اس لئے ان کا خوف ان کے لئے طمع لے کر آتا ہے۔اس لئے پہلے خوف کا ذکر فرمایا بعد میں طمع کا ذکر فرمایا۔ان کا ایک دوسرے کے ساتھ یہی تعلق ہے کہ خوف کے نتیجہ میں وہ مجبور ہو جاتے ہیں اپنے رب کے حضور راتوں کو اٹھ کر گریہ وزاری کے لئے اور جب وہ خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہیں تو حیرت انگیز ایک انقلاب رونما ہوتا ہے۔ان کا خوف طمع میں بدلنا شروع ہو جاتا ہے اور وہ امیدیں لگا بیٹھتے ہیں خدا سے کہ خوف ہمارا نقصان نہیں کرے گا بلکہ ہمیں کچھ دے کر جائے گا اور ایسا ہی ہوتا ہے۔وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ پھر جو کچھ ہم ان کو عطا کرتے چلے جاتے ہیں تو وہ اور خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور خرچ کا خوف بھی اڑ جاتا ہے پھر کوئی خوف بھی نہیں رہتا۔ایک خوف دنیا کا ایک انسانی جذبہ کو حرکت میں لاتا ہے انسانی تفکرات کو حرکت میں لاتا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ خوف اپنے ہی خوف میں وجود کو چاٹ جاتا ہے اور اس کی بجائے ایک