خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد ۳ 652 خطبہ جمعہ ۹ نومبر ۱۹۸۴ء سلسبیل ہے، ایک جاری سلسلہ ہے جو بھی ختم نہیں ہو سکتا۔ایک طرف سے پانی بہ رہا ہے لیکن بہنے کے سوراخ تو چھوٹے ہیں کیونکہ انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ایک طرف سے پانی آ رہا ہے اور وہ آسمان کا سوراخ ہے جو خدا کے ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے اس لئے ناممکن ہے کہ آنے والی راہ نکلنے والی راہ سے چھوٹی ہو جائے ایک جاری مضمون ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ہمیشہ ایسا ہوتا چلا جاتا ہے۔پس جماعت احمدیہ کو تو اس بات کا کوئی خوف نہیں، جتنی توفیق ہوگی ہم اتنا ضرور دیں گے اور صرف یہی نہیں کریں گے کہ آج کی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کریں بلکہ جس طرح ہم نے افریقہ میں پہلے سے ہی پروگرام شروع کر دیا ہے ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی ہم نے کوشش کرنی ہے یہ آتے ہیں اور فقیروں کی طرح تقسیم کر کے چلے جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ ان کو زراعت میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے ، ان کو زراعت میں خود کفیل کرنے کی ضرورت ہے، اس معاملہ میں وہ بالکل بے خبر بے پراہ ہوتے ہیں تا کہ وہ قومیں ہماری محتاج رہیں اور جب احتیاج ہو تو پھر ہماری طرف دوڑیں۔ہم نے افریقہ میں ایک سکیم شروع کی تھی اللہ کے فضل سے بہت کامیاب رہی ہے اور ساری قوم نے اس کو امید کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ایک ہزار ایکڑ کا فارم لے کر اگرچہ پہلے سال شدید نقصان ہوالیکن میں نے ان سے کہا کہ اب جاری رکھیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی خاطر ہم کر رہے ہیں وہ خود فضل کرکے گا چنانچہ اس دفعہ رپورٹ یہ آئی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر فصل بہت ہی اچھی ہوئی ہے اور نہایت کامیاب تجربہ رہا ہے۔اسی طرح نائیجریا کو ہم نے خود کفیل بنانے کے طریق سکھانے شروع کر دیئے ہیں بہر حال ہم سکھا تو سکتے ہیں اور حتی المقدور کوشش بھی کر سکتے ہیں اس لئے باقی ممالک میں بھی ہم اس سکیم کو عام کریں گے اور بعض احمدی وہاں وقف کر کے گئے ہیں اسی نیت سے جنہوں نے ان کو کام سکھانے کی نیت کی ہوئی ہے۔ان کی خاطر وہ بڑی مشکلات میں مصیبتوں میں پڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دن رات محنت کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ سلیقہ دے رہے ہیں ان کو۔ان کو بالکل علم نہیں تھا کہ چاول کس طرح لگایا جاتا ہے، گندم کس طرح لگائی جاتی ہے، ان سب چیزوں سے وہ نابلد تھے۔تو یہ اللہ کا احسان ہے کہ وہ ہمارے لئے نیکیوں کی راہیں کھول رہا ہے اور نیکی کی راہوں