خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 653

خطبات طاہر جلد ۳ 653 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء میں ہمیں آگے سے آگے بڑھاتا چلا جارہا ہے۔ان فضلوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو پھر ان کے دیئے ہوئے دکھ ان کی دی ہوئی گالیاں، ان کی لغو باتیں ، ان کے فضول قصے بالکل حقیر اور بے معنی دکھائی دینے لگتے ہیں۔اس وقت دل حمد سے بھر جاتا ہے اور اللہ کے حضور حمد وشکر سے بھر کر آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور یہ عرض کرتی ہیں اپنے رب سے کہ: ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑ ا م اغیار کا (در مشین) تو خدا کے فضل اس کثرت سے نازل ہورہے ہیں اور ہر جگہ نازل ہورہے ہیں کہ آپ باوجود اس علم کے کہ ہورہے ہیں پھر بھی تصور نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو ساری اطلاعیں اس کثرت سے نہیں آرہیں جس طرح مجھے آتی ہیں۔کوئی جاپان سے خط آ رہا ہے اور کوئی پاکستان سے خط آ رہا ہے کوئی افریقہ کے ممالک سے خط آ رہا ہے، کوئی ہندوستان سے آرہا ہے۔گاؤں کے گاؤں احمدی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ایسی تیزی آگئی ہے تبلیغ میں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔انگلستان بھی جاگ رہا ہے اللہ کے فضل سے، پہلے میں نے آپ کو خوشخبری دی تھی کہ ایک جوڑا ، نہایت ہی سلجھا ہوا مخلص انگریز میاں بیوی کا نوجوان جوڑا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشان دیکھ کر احمدی ہوا ہے اسی جگہ سے یعنی یارک شائر سے ، اب کل رات مجھے چٹھی ملی ہے کہ ایک اور خاتون احمدی ہو ئیں تھیں کچھ عرصہ پہلے وہ ایک اور خاتون کو ساتھ لانے لگیں اور کل انہوں نے ایک بہت زبر دست تبلیغی پارٹی کی ہوئی تھی۔بڑا ہی خدا کے فضل سے ان کو جنون ہے یعنی ڈاکٹر سعید اور سلمی سعید جوان کی بیگم ہیں تو اسی (۸۰) آدمی قریباً بلائے ہوئے تھے ،اڑھائی گھنٹے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تبلیغ کا موقعہ ملا اور کثرت سے پہلے کئی دن دعائیں کرتے رہے کہ اے اللہ ! ہمیں تو علم نہیں ہے تو ہمیں روشنی عطا فرما، حکمت عطا فرما۔ہماری زبان کھول۔سلمی سعید لکھتی ہیں کہ میں حیران ہوگئی تھی کہ مجھے جواب کیسے آرہے ہیں اور کس طرح میری زبان چل رہی ہے خود بخود یہاں تک کہ اس کثرت سے فون آنے شروع ہوئے کہ اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ تمہارا اسلام سچا ہے اور باقی سب جو قصے ہیں فرضی باتیں ہیں۔بعض لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو نفرت تھی اسلام کے نام سے۔یہ جو ملا ازم اسلام