خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 651 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 651

خطبات طاہر جلد ۳ 651 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء میدانوں میں لٹریچر پر خرچ کرنا تھا، تنظیموں پر خرچ کرنا تھا، مساجد پر خرچ کرنا تھا، نیکیوں کے نئے سے نئے رستے کھلتے چلے آرہے تھے اور ہر آواز پر وہ اپنی ساری طاقتیں خرچ کر کے اپنی طرف سے جیبیں خالی کر چکے تھے اس وقت خدا کی نظر یہ دیکھے گی اور دیکھ رہی ہے کہ اسی جماعت کو جب تحریک کی گئی کہ آج اس بھوک کے دن کو مٹانے کے لئے بھی کچھ نہ کچھ پیش کرو تو وہ ضرور کچھ نہ کچھ پیش کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان لوگوں میں سے بنایا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم ہیں احمدی ہیں یا دشمن ہیں احمدیت کے جہاں بھی تکلیف ہوگی وہاں جماعت احمدیہ ضرور تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔چنانچہ ابھی کراچی میں کچھ عرصہ پہلے جب بہت خطرناک بارش ہوئی اور بہت ہی زیادہ تکلیف پہنچی ہے غریب گھرانوں کو تو احمدی عورتیں لجنہ کی جو کچھ ان کے بس میں تھا کوئی کمبل کپڑے، کوئی کھانا لے کر غریبوں کے گھر پہنچیں اور خدمت شروع کی اور کوئی تبلیغ کی نیت نہیں تھی نہ ان کا ارادہ نہ اس خیال سے وہاں وہ گئیں۔صرف تکلیف دور کر رہی تھیں تو بعض احمدی بہنوں نے مجھے جو یہ واقعات لکھے ہیں حیرت انگیز ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ بعض لوگ اکٹھے ہو کر ہمارے پیچھے پڑ گئے کہ تم ہمیں بتاؤ تم کون ہو اور کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں نہیں بتانا چاہتے تمہیں تکلیف ہوگی اور اگر ہم نے بتا دیا ہو سکتا ہے تم ہم سے لینا بند کر دو۔تم اپنی ضرورت پوری کرو تمہیں اس سے کیا غرض ہے کون آیا تھا، کیوں آیا تھا، کیا دے گیا ؟ اس پر وہ کہتے ہیں کہ عجیب نظارے ہم نے دیکھے۔بعض لوگوں نے کہا کہ دیکھو ہم یہ جانتے ہیں اس بھرے پاکستان میں اور کسی کو خیال نہیں آسکتا تم احمدی تو نہیں؟ تمہارے دل پر بیتی ہے اور کسی اور کے دل پر نہیں بیتی ہم نے ہمارا دکھ محسوس کیا اور کسی اور نے محسوس نہیں کیا۔ہم تمہاری پیشانیوں سے پہچانتے ہیں تم چھپاؤ جو چاہو کرو ہمیں پتہ لگ گیا ہے کہ تم کون ہو چنانچہ مجبوراً پھر ان کو بتانا پڑا۔تو جس قوم نے مظالم کی حد کر دی تھی جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے یا آئندہ پہنچے گی تو تب بھی انشا اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ پیش پیش ہوگی اور جہاں تک جیبوں کا تعلق ہے یہ نہ میں نے بھری تھیں نہ آپ نے بھری ہیں یہ اللہ تعالیٰ عطا کرنے والا ہے اور اپنی راہ میں خرچ کرنے والوں کا نقشہ یہ کھینچا ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ہم نے جو ان کو عطا کیا اس سے وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور جتنا وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں ہم عطا کرتے چلے جاتے ہیں یعنی ایک