خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 638
خطبات طاہر جلد ۳ 638 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۴ء استہزاء کرنے والوں کے لئے ہم کافی ہیں الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلهَا آخَرَ وه لوگ جنہوں نے خدا کے سوا معبود بنا لئے ہیں بعض دفعہ بندوں کو بنا لیتے ہیں بعض دفعہ خواہشات کو بنا لیتے ہیں فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ وہ ضرور ، یقیناً جان لیں گے کہ وہ گھاٹے والے ہیں۔ وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمیں پتہ ہے کہ تیرے دل کو کیا دکھ پہنچتا ہے جب یہ باتیں کرتے ہیں؟ ا یہ میں نے اس لئے آیت پڑھی ہے کہ ایک احمدی سمجھتا ہے کہ میرے دل کی پتہ نہیں کیا حالت ہوگئی کٹ گیا ، مر گیا اور اللہ ابھی تک رحم نہیں فرمارہا اور کیوں اللہ تعالیٰ اچانک ساری تبدیلیاں نہیں پیدا کر دیتا ؟ یہ جو کیفیت ہے یہ حضرت محمد مصطفی علی کے دل کی کیفیت ہے جو قرآن بیان فرما رہا ہے اور تیرہ سال مسلسل اور اس کے بعد بھی اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے زیادہ محبوب بندے کو رکھا اور وہ تبدیلیاں جو اس کے نزدیک مقدر تھیں وہ اسی وقت آئیں جب وہ وقت مقدر تھا۔ تو بڑا ظلم ہوگا کہ ایک انسان بے صبری دکھائے اور اپنے دل کی حالت جانتے ہوئے جو اس پر گزر رہی ہے وہ یہ باتیں کہنی شروع کر دے اپنے رب کے اوپر کہ اتنی دیر ہو گئی روتے ہوئے اور سجدہ گاہوں میں تڑپتے ہوئے اے خدا ! کہاں گیا تو تیری رحمت کیوں نہیں آرہی ! یہ جوش دلانے کے لئے محبت اور پیار کے فقرے تو ٹھیک ہیں لیکن دل کی کیفیت یہ نہیں ہونی چاہئے ۔ بعض دفعہ انسان لاڈ سے بعض دفعہ اپنے محبوب کو روٹھے ہوئے کو منانے کے لئے ایسی ادائیں کر لیتا ہے ، یہ قصے یہ اور دنیا کے ہیں ۔ لیکن میں سنجیدگی کی بات کر رہا ہوں ، اپنے دل پر خدا کے متعلق میں نہیں لائی کیونکہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے خدا فرماتا ہے وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ ہم جانتے ہیں، ہمیں پتہ ہے تیرے دل پر کیا گزر رہی ہے اور اس سے زیادہ کسی دل پر نہیں گزرسکتی جو حضرت محمد مصطفیٰ کے دل برگزرا کرتی تھی۔ صلى غیروں کا غم جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے اور اپنوں کا غم جن کے متعلق فرماتا ہے کہ رؤف و رحیم تھے۔ کبھی کسی انسان کے متعلق خدا تعالی نے کسی کتاب میں یہ گواہی نہیں دی کہ وہ رَ ، وفَ رَّحِيمٌ تھا۔ یہ صلى الله عروسه خدا کی صفات آنحضرت ﷺ کے متعلق فرماتا و بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوْفٌ رَّحِيمٌ (التوبه (۱۲۸)