خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 637 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 637

خطبات طاہر جلد ۳ 637 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء غضب کو جوش میں لانے والی حرکتیں جو قوم کر رہی ہے وہ کر ہی رہی ہے۔یہ وقت بددعاؤں کا نہیں ہے، یہ وقت اس دعا کا ہے کہ اللہ رحم فرمائے ہمارے ہم وطنوں پر اور چند بد قسمتوں کے نتیجہ میں قوم کو سزا نہ ملے۔اس تیزی سے حالات گندگی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور بے حیائی اور گستاخی اور بے با کی اس طرح سر اٹھا رہی ہے کہ دن بدن مجھے تو یہ خوف پیدا ہو رہا ہے کہ اس ملک پر کب اور کیا آفت ٹوٹے گی اور جو اس آفت کو لانے میں زور لگارہے ہیں ان کو فکر ہی کوئی نہیں یعنی ان کی فکر بھی ہمیں ہی کرنی پڑ رہی ہے اس لئے جماعت کو میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ ایک تو صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔یہ نہ ہو کہ جماعت کی طرف یہ منسوب ہو سکے کہ جماعت کی بے صبری نے ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ اس کے نتیجہ میں ملک کی شامت آگئی حتی المقدور صبر سے کام لیں اور صبر پر قائم رہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، جہاں تک بس چلے اپنی قوم کے لئے دعا کریں اور جو پاکستانی نہیں ہیں وہ پاکستان کے لئے دعا کریں ، آخر انسان ہیں وہاں بسنے والے۔بھاری اکثریت ان مظلوموں کی ہے بھاری اکثریت ناواقفوں کی ہے، ان کو کچھ پتہ ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے جو اخبارات جو کچھ لکھ رہے ہیں جو مولوی کی آواز سنتے ہیں بچارے اپنی معصومیت میں وہ ماننے لگ جاتے ہیں اس لئے ان کا معاملہ غفلت کا ہے بالا رادہ ظلم کرنے والے لوگ تھوڑے لوگ ہیں۔ان کے لئے دعا کریں اگر کچی انسانیت ہے تو کسی کے دُکھ میں اس کی سزا میں مزا نہیں آیا کرتا۔استغفار کی کیفیت تو پیدا ہوتی ہے، اللہ کا خوف بڑھ جاتا ہے لیکن بعض دفعہ جو ائمۃ الکفر ہیں ان کے لئے ضرور استغفار کے ساتھ ایک لذت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم ایسی صورتوں کا بھی ذکر کرتا ہے اور کہ جب بہت حد سے بڑے ہوئے لوگوں پر خدا کی پکڑ آتی ہے تو اس دن مومن جو ہیں وہ فرح محسوس کرتے ہیں وَيَوْمَذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ ) ( الروم: ۵) ان کی طبعیت کشادہ ہو جاتی ہے اور بشاش ہو جاتی ہے لیکن عام حالت نہیں ہے۔عام حالات میں عذاب اور سزا کے اوپر مومن کا دل کڑھتا ہے اور اپنے بھائی کی تکلیف سے دکھ محسوس کرتا ہے اس لئے اس فرق کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں اور جہاں تک لائحہ عمل کا تعلق ہے میں بار بار بتا چکا ہوں آپ کو ہمارے لئے وہی لائحہ عمل ہے جو قرآن کریم نے پیش فرمایا ہے فرماتا ہے اِنَّا كَفَيْنَكَ الْمُسْتَهْزِيْنَ اے محمد ﷺ! تجھ سے مذاق کرنے والوں کے لئے،