خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۳ 639 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء کہ جھوٹا ہے وہ دعویدار جو یہ کہتا ہے کہ میں محمد مصطفی ماہ سے زیادہ کسی سے پیار کرتا ہوں۔ماؤں سے بڑھ کر پیار ممکن ہے لیکن محمد مصطفی ﷺ سے بڑھ کر پیار ممکن نہیں ہے۔تو اس دل پر کیا گزرتی ہوگی جب صحابہ کو تکلیف پہنچ رہی تھی؟ اور اس صورت حال میں تلقین کیا فرماتا ہے اللہ تعالیٰ؟ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّجِدِينَ خدا سے شکوہ نہیں کرنا جو حالت گزرجائے تیرے دل پر۔فَسَحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ اپنے رب کی حمد کے گیت گاتا چلا جاؤ كُنْ مِنَ السَّجِدِينَ اور ہمیشہ سجدہ ریز رہ، خدا کی رضا کے حضور اپنا سر اطاعت جھکائے رکھ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ اور یہ فیصلہ لے کر بیٹھ خدا کے در پر کہ اس رب کی میں عبادت کرتا چلا جاؤں گا حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ فی یہاں تک کہ مجھے موت آجائے۔الْيَقِین کا ترجمہ مفسرین نے موت کیا ہے۔حالانکہ یقین کا ظاہری معنی تو ہے یقین تک پہنچ جانا یعنی کسی یقینی بات کا رونما ہو جانا۔مفسرین نے جو معنی کیا ہے وہ بھی درست ہے بالکل صحیح ہے۔مراد ان معنوں کی یہ بنیں گی کہ تیرا کام یہ ہے کہ خدا کی عبادت اور اسکے حضور اطاعت کے جذبات میں ایسا پختہ ہو جا اور یہ ارادہ لے کر بیٹھ ، یہ ارادہ لے کر خدا کے حضور سجدہ کر کہ کچھ بھی ہو جائے موت سے پہلے میرا سجدہ ختم نہیں ہوگا۔یعنی یہ مقصد نہیں بنایا کہ فتح تک میرا اسجدہ رہے گا، کامیابی تک میرا سجدہ رہے گا، فرمایا موت تک سجدہ رہے اس موت سے پہلے جو تو دکھا تا ہے تیری مرضی ہے دکھائے یا نہ دکھائے لیکن میری فطرت کے ساتھ ! میرے ارادہ کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔میرے سجدہ پر دنیا کے حالات کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گے ، میں تیرا مطیع بندہ رہوں گا، آخر وقت تک ایک لمحہ کے لئے بھی تیری اطاعت سے باہر نہیں نکلوں گا۔یہ ہے تعلیم جو خداتعالی نے حضرت محمد مصطفی ﷺ ک دی تھی پس ہر احمدی کو اس تعلیم پر قائم ہونا چاہئے اور یہ ارادہ لے کر خدا کے حضور سر جھکانا چاہئے کہ سرکٹ تو جائے گا لیکن تیرے مقابل پر اٹھ نہیں سکتا۔جس قسم کے بھی ابتلا آئیں زندگی کے آخری سانس تک ہم حاضر ہیں اے ہمارے آقا ! جس طرح تو چاہے تو ہمیں آزما لے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز آج جمع کی جائے گی کیونکہ اب یہاں کے وقت بدل چکے