خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد ۳ 57 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء سلوک کرتا ہے بھیڑ بکریوں کو ڈالنے کے لئے وہی غیبت کرنے والے اپنے ایمان کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔ان میں سبزی اور رونق نہیں رہتی ، اگتی تو ہیں شاخیں لیکن وہ کاٹ کر پھینک دی جاتی ہیں، اسی طرح یہ لوگ اپنے ہاتھ سے اپنی نیکیوں کو تباہ کر لیتے ہیں۔پھر حضرت ابن عباس کی مشکوۃ میں یہ روایت درج ہے کہ دو آدمیوں نے ظہر یا عصر کی نماز صلى ادا کی۔وہ دونوں روزہ دار تھے۔جب حضور ﷺ نماز ادا فرما چکے تو آپ نے ان دونوں کو مخاطب کر کے فرمایا اپنا وضو دوبارہ کرو اور نماز پڑھو اور یہ روزہ بھی پورا کرو اور اس کے عوض ایک اور روزہ بھی رکھو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیوں؟ فرمایا تم نے فلاں کی غیبت کی ہے۔اب جو قیامت کے دن خدا تعالیٰ جو سلوک فرمائے گا وہ دنیا میں کس طرح رونما ہورہا ہوتا ہے واقعہ، اس کا نقشہ آنحضرت ﷺ نے کھینچ دیا۔احادیث کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اتنا مر بوط مضمون ہے اور حدیث کی صحت کے لئے یہ اندرونی گواہی سب سے قوی گواہی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ارشادات ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں ، ایک دوسرے سے رابطہ رکھتے ہیں۔ایک بڑا گہرا مضمون ہے نظم وضبط کا اور کسی اور گواہی کی ضرورت نہیں۔کلام نبوئی پہچانا جاتا ہے اپنی شکل وصورت سے ، اپنی اندرونی اور بیرونی خوبیوں سے۔تو دیکھئے کس طرح سارا مضمون ایک دوسرے کے ساتھ ملتا چلا جارہا ہے۔ایک موقع پر تو آنحضرت حضوراکرم ﷺ نے یہاں تک فرمایا کہ غیبت زنا سے بھی بری حرکت ہے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ حضور اکرم علی یہ کیسے ؟ یہ بات تو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی تو آپ نے فرمایا آدمی زنا کرتا ہے تو پھر تو بہ کر لیتا ہےاور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے اور اسے بخش بھی دیتا ہے لیکن غیبت کرنے والے کو نہیں بخشا جب تک کہ وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی گئی ہے۔(مسند احمد جلد ۳ صفحه ۵۸۶) یہ پہلو ہے جس پہلو سے غیبت زنا سے بھی بری بن جاتی ہے ، انسان کا واسطہ صرف رب سے رہے تو اس کو کوئی خوف نہیں ہے اتنا۔خوف ایک معنوں میں تو صرف اللہ ہی کا ہے لیکن وہ رحم کرنے والا اتنا بخشنے والا ہے کہ انسان اپنے رب سے رحم اور بخشش کی بہت زیادہ امید رکھ سکتا ہے یہ نسبت ایک انسان کے بعض دفعہ بڑے ظالم لوگ ہوتے ہیں ان کے ہاتھ میں اگر بخشش کا معاملہ چلا