خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 606 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 606

خطبات طاہر جلد ۳ 606 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء - تین سال پہلے جو وصولی تھی وہ دولاکھ نو ہزار (2,09,000) تھی اور آج اس کی وصولی چار لاکھ ایک ہزار نو روپے ہو چکی ہے حالانکہ حالات ایسے خطر ناک رہے ہیں ربوہ میں اور ایسی پریشانیاں رہی ہیں کہ خطرہ یہ تھا کہ سب سے زیادہ ربوہ کے چندوں پر برا اثر پڑے گا لیکن اللہ تعالیٰ نے جو مومنوں کی صفات بیان فرمائی ہیں قرآن کریم میں ان میں ایک یہ ہے وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بهِمْ خَصَاصَةٌ له (الحشر: ۱۰) کہ وہ اللہ کی ضروریات کو یعنی دین کی ضروریات کو اپنی ذاتی ضروریات پر ترجیح دیتے ہیں خواہ وہ تنگی کی حالت میں ہی اور نہایت مشکلات کی حالت میں گزارہ کر رہے ہوں۔تو یہ تعریف اللہ تعالی کے فضل سے سب جماعتوں پر پورا اترتی ہے لیکن ربوہ کو اللہ تعالی نے یہ خاص مقام عطا فرمایا کہ فیصد اضافہ کے لحاظ سے سارے پاکستان کی بلکہ ساری دنیا کی جماعتوں میں آگے بڑھ گیا ہے۔دوسرے نمبر پر سیالکوٹ آتا ہے یہاں اضافہ %54۔5 ہے لیکن سیالکوٹ کا جو اضافہ ہے وہ اس لحاظ سے اتنا زیادہ خوشکن نہیں کہ سیالکوٹ کی جماعتیں کچھ ضرورت سے زیادہ دیر سے سوئی ہوئی ہیں اور جوان کے اندر اصل معیار ہے جو خدا تعالیٰ نے ان کو استطاعت عطا فرمائی ہے اس سے ابھی بھی پیچھے ہیں۔چنانچہ سارے سیالکوٹ کا بڑھنے کے بعد بھی36,000 تک وعدہ پہنچا ہے اور ربوہ کا ایک شہر کا چار لاکھ سے اوپر ہے۔حالانکہ سیالکوٹ ہی میں اس وقت سب سے زیادہ جماعتوں کے تعداد ہے لیکن مشکل یہی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک سیالکوٹ نے نیند کے مزے اڑائے ہیں یا ایک اور بات بھی ہے کہ سیالکوٹ والے سمجھتے ہیں کہ ساری دنیا میں جو قربانیاں دے رہے ہیں احمدی ان میں سب سے آگے سیالکوٹی ہیں اس لئے وہی کافی ہیں ہماری طرف سے، وہ کام کرتے رہیں ہماری صف اول بن کر ہم ان کے ثواب میں حصہ لیتے رہیں گے۔یہ امر واقعہ ہے کہ سارے پاکستان میں بھی بلکہ ساری دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیالکوٹیوں کو غیر معمولی طور پر جماعتی خدمات کی توفیق ملی ہے اور مل رہی ہے۔تو یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ سیالکوٹ بیچارے کو بالکل ہی نکما نہ سمجھ لیں۔اس میں بھی جان ہے خدا کے فضل سے لیکن باہر جا کر زیادہ جان پڑتی ہے سیالکوٹ میں رہ کر کم پڑتی ہے۔باہر کے سیالکوٹیوں کو بھی چاہئے کہ کچھ ان کیطرف فکر کریں۔اپنے عزیزوں کو لکھیں ان کو کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام