خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 605
خطبات طاہر جلد۳ 605 خطبه جمعه ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۴ء بلند ہے۔ایک سوتر اسی فیصد اضافہ کیا ہے پین نے۔سری لنکا پیچھے تھا جو اور گزشتہ دور ہوا وہاں اس کے نتیجہ میں جماعت میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی۔تحریک جدید میں بھی انہوں نے خدا کے فضل سے ایک سوا کہتر فیصد (171) اضافہ کے ساتھ چندے دیئے۔سیرالیون میں ایک سو چھپیں فیصد (%125) اضافہ، سنگا پور میں سو فیصد ( %100 ) ، برما میں پچھتر فیصد (%75)، سوئٹزرلینڈ اڑسٹھ فیصد ( %68 ) ، گیمبیا میں چونسٹھ فیصد ( 64 ) ،لائبیریا میں تریسٹھ فیصد ( %63)، گی آنا میں اڑتیس فیصد ( 38 ) ، آئیوری کوسٹ میں اکتیس فیصد (%31)، یوگنڈا میں پینتیس فیصد (35)، غانا میں تمیں فیصد ( %30 ) ، ناروے میں اٹھائیس فیصد ( %28)، ٹرینیڈاڈ پچپیس فیصد (%25) اور شرق اوسط میں اٹھاون فیصد (58) اضافہ ہوا ہے۔الحمد للہ۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا عطا فرمائے۔باقی جو ممالک ہیں جن میں معمولی اضافہ نسبتاً ہے ان کی فہرست پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن کچھ ممالک ایسے ہیں جو پیچھے بھی ہٹے ہیں اور میرا یہ خیال ہے کہ اس میں انتظامی وقت ہے یعنی انتظامی کمزوری ہے ورنہ یہ ناممکن ہے کہ جماعت کا قدم پیچھے ہٹے کیونکہ ہمارا تجربہ تو یہی ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ (آل عمران: ۱۳۵) جماعت کے اوپر چاہے تنگی کا زمانہ ہو چاہے خوشحالی کا زمانہ ہو یہ بہر حال آگے قدم بڑھاتی ہے۔۔چنانچہ ربوہ کی مثال آپ دیکھ لیجئے۔ربوہ میں جو فہرست ہے شہروں کی ، پاکستان کے شہروں کی اس میں سب سے زیادہ حیرت انگیز طور پر ربوہ میں اضافہ ہوا ہے حالانکہ ربوہ میں نسبتا غربا کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ایک بہت بڑی تعداد تو ایسی ہے کہ جن کو اگر سلسلہ گندم اور ضروریات مہیا نہ کرے تو ان کے لئے رہن سہن مشکل ہو جائے ، بہت ہی تکلیف دہ حالات پیدا ہوں اور بہت سے واقفین ہیں۔اسی طرح مختلف مصائب کے مارے ہوئے پناہ کیلئے باہر سے یہاں آجاتے ہیں۔تو عمومی معیار، اللہ تعالی اس کو بلند فرمائے ، فی الحال یہ بہت کم معیار ہے لیکن گزشتہ تین سال کے اندر ربوہ نے اخلاص میں جو ترقی کی ہے وہ اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ سال 48 میں دو لاکھ ان کا وعدہ تھا اور اس سے آئندہ سال تین لاکھ انہتر ہزار کا ہوا اور امسال جو گزرا ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے چار لاکھ سے کچھ اوپر وعدہ ہو چکا ہے، یہ وعدہ نہیں ہے وصولی ہے۔ربوہ کے تین سال پہلے یعنی آج سے