خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد ۳ 607 خطبه جمعه ۲۶/اکتوبر ۱۹۸۴ء نے تمہیں کو اپنا دوسرا وطن قرار دیا تھا اس کی لاج رکھ لو اور جس طرح ہم باہر نکل کر قربانیوں میں پیش پیش ہیں تم بھی پیش پیش ہو۔یہ درست ہے کہ وہاں جو پیچھے رہنے والے ہیں ان کے مالی حالات بہت قابل فکر ہیں بہت حد تک اور زمینیں چونکہ بٹ گئی ہیں پھر اور بٹ گئیں اس کے نتیجے میں کچھ اختلاف بھی پیدا ہوئے کچھ بے برکتیاں بھی پیدا ہوئیں اور اس کی وجہ سے مالی حالات پر برا اثر ہے لیکن مالی حالات اچھے کرنے کا بھی یہی علاج ہے کہ چندے دیں یہ نکتہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے جو لوگ قربانیاں کرتے ہیں خدا کی خاطر اور اپنی ضروریات پر ترجیح دیتے ہیں دین کی ضرورت کو، اللہ تعالی ان کے گھر بھی برکتوں سے بھرتا ہے اور ان کی نسلوں کے گھر بھی برکتوں سے بھر دیتا ہے اور کبھی بھی کوئی انگلی خدا کی طرف اس شکوہ کے ساتھ نہیں اٹھ سکتی کہ ہمارے ماں باپ نے قربانیاں دی تھیں تو ہم فقیر رہ گئے۔ان کی نسلیں کھاتی ہیں ماں باپ کی قربانیوں کو اس لئے سیالکوٹ کی مالی مشکلات کا بھی یہی حل ہے کہ وہ چندہ میں آگے بڑھیں۔مجھے آج ہی میں جو میں ڈاک دیکھ رہا تھا اس میں ایک دلچسپ خط ملا۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے پچھلے سال اپنی آمد کا 1/3 کم لکھوایا چندہ میں اور اگر چہ آپ کی آواز میرے کانوں تک پہنچی تھی کہ اگر نہیں دے سکتے پورا تو دیانتداری سے کہہ دو ہم تمہیں معاف کردیں گے لیکن جھوٹ نہیں بولنا لیکن وہ ان صاحب سے غلطی ہو گئی حالانکہ تاجر آدمی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آمد اچھی تھی۔وہ کہتے ہیں 1/3 لکھوا دیا اللہ تعالی نے مجھے کچھ سبق اس طرح دینا تھا کہ آخر پر جب میں نے حساب کیا تو گزشتہ سال کی جو آمد تھی اس سے بعینہ 1/3 کم آمد ہوئی اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہے۔اللہ تعالی مجھے بچانا چاہتا ہے۔چنانچہ میں نے پھر اس آمد پر نہیں لکھوایا بلکہ اس سے پچھلے سال کی جو زائد آمد تھی اس پر بجٹ لکھوایا جو اس سال گزر رہا ہے اور نتیجہ یہ نکلا کہ میری گمی ہوئی چیز میں واپس مل گئیں، چوری کئے ہوئے مال واپس آنے شروع ہو گئے ، جو پیسے مارے گئے تھے وہ واپس آنے شروع ہو گئے اور اس سے بھی آمد میری بڑھ گئی۔تو اللہ تعالی کے اپنے بندوں سے بعض د لیکھے ہوتے ہیں خاص سلوک ہوتے ہیں اور جماعت احمدیہ سے تو یہ سلوک مجھے علم ہے اور وسیع علم کی بنا پر میں بتارہا ہوں کہ ایسا پختہ، ایسا یقینی ہے