خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد ۳ 579 خطبه جمعه ۱۲ / اکتوبر ۱۹۸۴ء تو مومنوں کے دل ڈھارس پا جاتے ہیں الْحَقُّ وَ مَوْعِظَ ہم نے حق اور موعظہ اس کتاب میں بھیجی ہے و ذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِینَ کہ مومنوں کے لئے اس میں بہت عظیم الشان کلام ہے۔وہ پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور ان کے دلوں کو تقویت مل جاتی ہے۔یہ درمیانی خطاب مومنوں سے ہے پھر یعنی ظلم والوں کا بیان کرنے کے بعد پھر مومنوں کی طرف اللہ تعالیٰ واپس آیا اور اب مومنوں سے مخاطب کر کے کہتا ہے ہم نے جو تجھ سے باتیں کی ہیں ہم تو تمہیں ایسی تقدیریں بتا چکے ہیں جو بدلا نہیں کرتیں اہل ہیں۔اب تم ہماری طرف سے اس مقام پر فائز ہو کہ کھل کر یقین کے ساتھ دشمن کو مخاطب کر کے یہ باتیں کہو۔وَقُلْ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوْا عَلَى مَكَانَتِكُم الى محمد على الالم اب تو کھڑا ہو جا اور ہم نے جو تجھے ڈھارس دی ہے ، ہم نے تجھے جو یقین دلایا ہے اس برتے پر یہ جانتے ہوئے کہ تیری پشت پر تیرا خدا کھڑا ہے اور کائنات کا خدا کھڑا ہے تو اعلان کر دے، ان سے کہہ دے اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُم اب جو چاہتے ہو تم کر لو انا عمِلُونَ ہم بھی وہ کریں گے جس کا خدا نے ہمیں حکم دیا ہے۔وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ اور اب تو وہ بات آگئی ہے کہ زبان کی باتیں ختم ہو چکی ہیں تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کریں گے۔تم سے تمہارے شیاطین کچھ باتیں کرتے ہیں، تمہیں جھوٹے وعدے دیتے ہیں، تمہیں فساد پر ابھارتے ہیں ہم اس کے مطابق عمل کرو۔ہم سے ہمارا خدا کچھ باتیں کرتا ہے، کچھ طریق ہمیں بتاتا ہے، وہ ہم نے اس سے سیکھنی ہیں اب ہم ان پر عمل کریں گے اور دونوں انتظار کریں گے۔وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُكُله فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَارَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ الله کے لئے آسمان اور زمین کے غیب ہیں وہی جانتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔انتظار کے جواب میں کیا ہوگا یہ بتارہا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم بھی بندے ہو تمہارے مقابل بھی بندے ہیں لیکن ان کو یہ بتانے والا کوئی نہیں کہ ان کا انجام کیا ہے لیکن تمہیں بتانے والا تمہارا رب موجود ہے کیونکہ وہ غیب کو جانتا ہے اور اسی کی طرف ہر امر لوٹتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ تمام حکومت ، تمام قوت، ہر فیصلہ خدا کی مرضی سے ہوا کرتا ہے تو فرمایا جس کے ہاتھ میں غیب ہے اسی کے