خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 578
خطبات طاہر جلد۳ 578 خطبه جمعه ۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء بے انتہا پیار ہو آپس میں بے حد محبتیں ہوں، اخیار ہوں، قربانیاں ہوں، خدا کے نام پر وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں، ایک دوسرے کے لئے فدا ہوتے ہوں، ایک دوسرے کے غم میں آنسو بہاتے ہوں فرماتا ہے وَ لِذلِكَ خَلَقَهُم دیکھو میری تخلیق کا مقصد پورا ہوگیا۔جب یہ لوگ دنیا میں آئے تب میں کہتا ہوں و لِذلِكَ خَلَقَهُمُ اس لئے خدا نے پیدا کیا تھا اس کا ئنات کو کہ ایسے لوگ وجود میں آئیں۔لیکن افسوس کہ اکثریت ویسی نہیں ہے۔وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا مُلَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ حسرت کا مقام یہ ہے کہ اس مقصود کو بھلا کر باوجود اس کے کہ پیدائش کا مقصد یہ تھا کہ ایسے رحیم بندے خدا کے پیدا ہوں پھر بھی اکثریت ایسی ہے جو جہنم کا ایندھن بننے والی ہے اور ان میں بڑے لوگ بھی اور ان میں چھوٹے لوگ بھی ہیں۔وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ اے محمد ﷺ اس طرح ہم تجھے انبیاء کی باتیں سناتے ہیں مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ تا کہ غموں اور دکھوں کے وقت میں تمہارے دل کو ڈھارس ملے، تمہیں سہارا ملے۔یہ وہ راتوں کے قصے ہیں جو آنحضرت اللہ سے اللہ تعالیٰ پیار اور محبت میں کیا کرتا تھا جس طرح دکھوں کی راتوں میں مائیں سہارا دیتی ہیں بچوں کو کوئی بات نہیں ابھی دن آنے والا ہے، صبح ہو جائے گی، فکر نہ کرو تسلی رکھو، اس طرح ہی ہمارا رب حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو تسلیاں دیتا تھا اور یہ انداز ہے تسلی کا۔ساتھ ساتھ پرانے لوگوں کی باتیں۔کس طرح قو میں مخالفتوں میں ہلاک ہوئیں؟ کس طرح دکھوں سے لوگ گزرے اور خدا کے رحم کی علامت کیا ہے؟ کس طرح مخالفین آپس میں ہی ایک دوسرے سے لڑتے اور ایک دوسرے کے خلاف حسد کی آگ میں جلتے ہیں؟ کس طرح مومنین کا حال ہے کہ وہ ایک دوسرے کے غم میں ایک دوسرے کے دکھ کیلئے اپنی جان پر ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔فرمایا اور آخر پر یہی جیتا کرتے ہیں۔یہ ہمارا انداز تسلی دیکھو کس طرح ہم تجھے پیار سے باتیں سکھا کر تمہارے لئے ڈھارس دیتے ہیں تمہیں سہارا دیتے ہیں کہ تسلی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے پیار کی باتیں سنتے ہوئے یقین کی حالت میں ان دکھوں کے وقت سے گزر جاؤ۔وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَ ذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ۔فرمایا تیرے مضبوط ہونے کے ساتھ مومن مضبوط ہوتے ہیں۔تیرا ایک دل تقویت نہیں پاتا بلکہ تیراوہ دل ہے جس میں سارے مومنین کے دل دھڑک رہے ہیں۔جب ہم تیرے دل کو ڈھارس دیتے ہیں