خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 542

خطبات طاہر جلد ۳ 542 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۴ء میں کہ اس کو علم ہے کہ کس حد تک وسعت عطا کرنی ہے کس حد تک نہیں کرنی اور آنکھیں بند کر کے، جذبات میں آکر وہ وسعتیں دینے والا نہیں ہے بلکہ علم کی بنا پر جانتے ہوئے کہ کون سی وسعت کیا نتیجہ پیدا کرے گی وہ وسعتیں عطا فرماتا ہے۔تُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ یہ حکمت کی باتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے جسے چاہتا ہے وہ حکمت عطا کرتا ہے اور اگر آپ غور کریں تو انسانی زندگی کا جو اموال سے تعلق ہے اور دونوں قسم کے جو تعلقات ہیں وہ کیا نتائج پیدا کرتے ہیں۔ان پر آپ غور کریں تو آپ کے سامنے تمام انسانی تاریخ کو یوں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے کھول کر رکھ دیا ہے اور ماضی کو نہیں مستقبل کو بھی کھول کر رکھ دیا ہے۔آج کل تو بالکل یوں نظر آتا ہے جس طرح جماعت احمدیہ کو سامنے ملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ انسانی فطرت کا نقشہ کھینچ رہا ہے کہ کچھ لوگ اس طرح عمل کیا کرتے ہیں ، کچھ اس طرح عمل کیا کرتے ہیں، کچھ لوگ گندگیاں تقسیم کر رہے ہیں خدا کی راہ میں پھٹے ہوئے کپڑے دے رہے ہیں، کچھ ہیں جو اپنے زیورا تارا تار کر پیش کر رہی ہیں عورتیں اور پھر بھی ان کے دل کو چین نہیں ملتا۔ایک نگ بھی باقی رہ جائے تو ان کا دل کڑھتا رہتا ہے کہ کاش ہمیں اجازت ہوتی تو ہم یہ بھی پیش کر دیتے۔یہ جو دو فریق ہیں ان کے نقشے اتنے کھل کر سامنے رکھے گئے ہیں کہ اگر کسی نے صداقت کو پہچاننا ہو تو انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کو دیکھے، خدا کے نام پر کون کس طرح خرچ کر رہا ہے؟ جس کا نقشہ ان آیات کے مطابق ہوگا اس کو خبیث آپ نہیں کہہ سکتے۔اس کو گندے لوگ نہیں کہہ سکتے ،اس جماعت کو۔جس کا نقشہ دوسری جہت پر ہو گا جو قرآن کریم نے خود کھینچا ہے ان کو آپ پاک باز نہیں کہہ سکتے ان کو خدا والے نہیں کہہ سکتے۔تو جس طرف بھی آپ نظر ڈالیں آپ کو صداقت کا پہچاننا کوئی مشکل نہیں ہے قرآن کریم نے خوب کھول کھول کر یہ مضامین بیان فرمائے ہیں۔چنانچہ ایک ایسی عورت کا بھی ہمیں اپنی سوسائٹی میں ذکر ملتا ہے اور یہ کسی احمدی کا بنایا ہوا لطیفہ نہیں ہے یہ تو مشہور عام ہے کہ ایک بی بی نے ایک مولوی صاحب کو گاؤں کے جو مولوی ہیں ان کو کھیر بھیجی ایک مٹی کے برتن میں اور وہ جب کھیر لے کر گیا تو اس کے مولوی صاحب تو بڑے متعجب ہوئے کیونکہ ان کو اکثر تو وہ بچی ہوئی روٹیاں اور باسی سالن وغیرہ دیا کرتی تھی۔تو مولوی صاحب نے کہا کہ آج کیا بات ہے؟ خیر ہے گھر میں کوئی مبارک بات ہے کہ آج کھیر آگئی ہے وہاں تو بچہ بیچارہ