خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 543 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 543

خطبات طاہر جلد۳ 543 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۸۴ء معصوم تھا اس نے کہا نہیں مولوی صاحب وہ کتا منہ ڈال گیا تھا اس میں اس لئے امی نے بجھوادی۔مولوی صاحب کو غصہ آیا انہوں نے اٹھا کر برتن پھینکا، مٹی کا برتن تھا ٹوٹ گیا تو بچہ رونے لگا کہ مولوی صاحب آپ نے تو مروا دیا مجھے واپس جاؤں گا امی ماریں گی کہ اب منے کو پیشاب کس چیز میں کروایا کریں گی اسی برتن میں کرایا کرتی تھیں۔تو ایک خدا کے نام پر ایسا حیا نہ خرچ بھی ہے کہ جن کو تم قوم کا معزز سمجھتے ہو ، جن کے ہاتھ میں اپنے دین کی لگام دی ہوئی ہے تم نے ہم سمجھتے ہو کہ جن کی باتوں پر اعتماد کر کے تمہارے لئے جنت یا جہنم کے فیصلے ہوں گے جو عملاً حقیقت میں قوم کے سردار کہلانے چاہئیں ان کو تم خدا کے نام پر یہ خبیث چیزیں دیتے ہو اور پھر کہتے ہو کہ تم خدا والے ہو اور ایک طرف احمدی خواتیں ہیں کہ جن کو نفرتیں ہوگئی ہیں اپنے زیوروں سے۔بعض ایسی ہیں جن کے مرحوم ماں باپ نے بڑی محنت اور پیار کے ساتھ نشانیاں دی تھیں اور نشانیاں اتارا تار کر گلوں سے پھینک رہی ہیں اور اپنے ہاتھوں سے اتار کر پھینک رہی ہیں اور اس کثرت کے ساتھ ایسی اطلاعیں مل رہی ہیں کہ ان کا بیان ہی ممکن نہیں۔وہ کہتے ہیں یہ جو ہماری سب سے اچھی چیز ہے یہ ہم خدا کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔کہاں یہ جماعت کہاں وہ جماعت اور یہ آیت ہے اس کو پڑھ لیں دوبارہ اور نقشہ دیکھ لیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام کس جماعت کو اپنی جماعت قرار دے رہا ہے اور کس جماعت کو دوسروں کی جماعت قرار دے رہا ہے؟ فرماتا ہے تُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَاءُ یہ حکمت کا کلام ہے ہم جسے چاہیں عطا کریں وَ مَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِ خَيْرًا كَثِيرًا اور حکمت ہی اصل دولت ہے۔وہ خیر جوفضل کی صورت میں بعد میں تمہیں ملے گی اس میں تو تمہیں دلچسپی اب کوئی نہیں رہی ہم حکمتیں جو تمہیں عطا کر رہے ہیں اور تمہیں حکمتوں کا عاشق بنا دیا ہے ہم نے تو دیں گے تو ہم ضرور لیکن اعلیٰ مقاصد میں خرچ کی خاطر، تمہاری تمنا پوری ہوگی حکمتوں کے نتیجہ میں جو ہم تمہیں عطا کرتے ہیں کیونکہ تمہارے نزدیک سب سے بڑی دولت اللہ کی طرف سے عطا کردہ حکمت ہے اور یہ باتیں صاحب عقل لوگوں کے سوا کسی کو نہیں سمجھ آیا کرتیں۔فرماتا ہے جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تم خدا کی راہ میں جو خرچ کرتے ہو تو وہ خرچ کسی کے علم میں بھی آیا ہے کہ نہیں تو اللہ فرماتا ہے وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ جو تم خرچ