خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 539 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 539

خطبات طاہر جلد۳ 539 خطبه جمعه ۲۸ / ستمبر ۱۹۸۴ء اس میں غیر اللہ کے اخراجات اور ان کے رجحان کی بہت ہی پیاری تصویر کھینچی گئی ہے۔پیاری ان معنوں میں کہ مکمل تصویر ہے اور گہری تصویر ہے۔تو حیرت کے ساتھ آپ اس آیت کو غور سے پڑھیں اور سنیں تو حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ کس تفصیل کے ساتھ ان لوگوں کا نقشہ کھینچا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق نہیں پاتے۔ایک طرف تو شیطان ان کو فقر سے ڈراتا ہے کہ تمہارے پاس کیا رہے گا دوسری طرف ایسے اخراجات پر اکساتا ہے جو انسانی ضروریات سے زائد بلکہ مضر ہیں یعنی فحشا کی تعلیم دیتا ہے، ان کو گندی اور بے حیا زندگی بسر کرنے پر اکساتا ہے اور ساتھ یہ ڈراتا ہے کہ اگر تم نے کچھ راہ خدا میں خرچ کیا تو یہ عیش پھر کیسے کرو گے؟ تو یہ معنی ہیں اَلشَّيْطنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ تمہیں حکم یہ دیتا ہے کہ فحشا کی زندگی بسر کرو اور فحشا کی زندگی بسر کرنے کیلئے تو پھر پیسے زیادہ چاہئیں راہ خدا میں خرچ کرنے والے بیچارے کہاں سے وہ پیسے سمیٹیں گے اور کہاں سے پیسے بچائیں گے عیاشیوں کے لئے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کا یہ طریق کار ہے دو طرح سے تمہیں مارتا ہے ، راہِ خدا میں خرچ سے روک دیتا ہے، تمہاری راہ میں کھڑا ہو جاتا ہے اور بدیوں کی زندگی پر اکساتا ہے ہر طرح سے تم اس کے مشورہ میں آکر مارے جاتے ہو۔انفاق فی سبیل اللہ ا سکے بالکل برعکس نتائج پیدا کرتا ہے اور وہ تمہارے لئے ہیں، تمہارے اپنے فائدہ کے لئے ہیں۔واللهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلاً ط بعض دفعہ قرآن کریم اس طرح مضمون ملاتا ہے کہ جو اول مذکور ہے اس کو اوّل سے ملا دیتا ہے جو بعد میں ذکر ہوا ہے اس کو بعد سے ملا دیتا ہے۔لف و نشر مرتب کہتے ہیں یعنی اسی ترتیب سے ذکر کرتا ہے۔بعض دفعہ آخری لفظ کو پہلے لے لیتا ہے اور پہلے بیان کردہ کو بعد میں لے لیتا ہے اور اس میں ایک حکمت ہوتی ہے چنانچہ یہاں یہی دوسرا طریق اختیار فرمایا ہے۔شیطان نے فقر یعنی غربت اور تنگ دستی کا ڈراوا دیا۔اس کے مقابل پر فضل آتا ہے لفظ یعنی خدا کثرت سے تمہیں عطا فرمائے گا، تمہاری دولت کو بڑھائے گا، تمہارے رزق میں برکت دے گا تو یہاں ”فضل“ کو خدا نے بعد میں رکھا اور فحشا کے مقابل پر جو مغفرت آتی ہے مغفرت کا پہلے ذکر کر دیا یعنی شیطان تو فقر سے ڈراتا ہے اور فحشا کا حکم دیتا ہے اللہ تعالیٰ مغفرت کا وعدہ کرتا ہے اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔تو ترتیب الٹ دی ہے مضمون کی اور اس میں ایک گہری حکمت ہے۔سب سے اہم بات مغفرت ہے خدا کے نزدیک دنیا