خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 540
خطبات طاہر جلد ۳ 540 خطبه جمعه ۲۸ ستمبر ۱۹۸۴ء کی دولت اور پیسے یہ کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے اللہ کی مغفرت کے مقابل پر۔پس جہاں قدر اور منزلت کے لحاظ سے اول اور آخر کو اختیار کیا جاتا ہے ترجیح دی جاتی ہے۔وہاں یہی بہتر ہے کہ جو اعلیٰ درجہ کی چیز ہو، مناسب ہو ، سب سے اوپر کا مقام رکھتی ہو پہلے اس کا تذکرہ ہو پھر بعد میں نسبتاً دوسری چیز کا ذکر ہو۔تو ترجیحات قائم کی گئیں ہیں مال میں اور مغفرت میں۔شیطان کو چونکہ مال زیادہ عزیز ہے اور دنیا کی دولتیں اس کی نظر میں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور شیطانی گروہوں کو بھی ، اس لئے مادہ پرستی سے ہی سب فحشا پھوٹتے ہیں اور مادہ پرستی اول ہے ہر بیماری کی جڑ۔چنانچہ وہاں مال کا پہلے ذکر کر دیا اور باقی چیزوں کا بعد میں ذکر فر مایا ایک تو یہ حکمت ہے کہ مغفرت کی اہمیت ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ فحشا کی تعلیم دیتا ہے اور میں تمہیں مغفرت کی طرف بلاتا ہوں یعنی بجائے اس کے کہ گناہوں میں آگے بڑھائے اسلام کی تعلیم جو گناہ تم سے پہلے سرزد ہو چکے ہیں ان کے بوجھ بھی کم کرتی ہے، ایسے رستوں کی طرف بلاتی ہے کہ جس سے تمہارے گناہ بخشے جائیں تو جب تم اموال خرچ کرتے ہو اللہ کی راہ میں اسکا سب سے بڑا اہم فائدہ تمہیں یہ پہنچتا ہے کہ تمہارے گناہ بخشے جاتے ہیں اور تمہیں مغفرت نصیب ہوتی ہے اور آخر پر جا کر اس مضمون میں ایک اور نئی بات بھی پیدا فرما دی وہ اسکا موقع پر آکر ذکر کرونگا۔b = وَفَضْلاً اور فضل بھی ملتا ہے اللہ کی طرف سے غربت نہیں آیا کرتی خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں پر، یہ ضمناً ذکر فرما دیا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں اتنی دولتیں عطا ہوں گی، اتنے اموال دیئے جائیں گے کہ شیطان ہر لحاظ سے جھوٹا ثابت ہوگا۔تم شیطان کا انکار کرو تو تم فقر کا انکار کر رہے ہو گے، تم شیطان کا انکار کرو تو تم فحشا کا انکار کر رہے ہو گے اور اس کے برعکس نتائج تمہارے سامنے ظاہر ہونگے تمہیں اللہ تعالیٰ مغفرت بھی عطا فرمائے گا اور دولتیں بھی عطا کرے گا۔دوسری حکمت اس ترتیب میں یہ نظر آتی ہے کہ وہ دولت جو مغفرت کے بغیر آئے وہ تو تباہی کا موجب بن جایا کرتی ہے۔پہلے گناہ صاف ہونے چاہئیں پھر دولتیں نصیب ہونی چاہئیں، پہلے رجحانات درست ہونے چاہئیں۔تقوی آنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھنی چاہئے پھر دولت آئے تو وہ نعمت ہی نعمت ہے لیکن اگر دولت پہلے آ جائے تو پھر وہ دولت مغفرت کی راہ میں حائل ہو جایا کرتی ہے یعنی ایسی دولت جو تقویٰ کے بغیر ہو۔تو اس ترتیب سے اس مضمون کو بھی خدا تعالیٰ نے بیان فرما دیا