خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 503 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 503

خطبات طاہر جلد ۳ 503 خطبه جمعه ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء کر لی ہوگی۔کسی ملک کو اوپر چڑھانے کے لئے انتظام کر رہے ہوں گے۔غیر آرہے ہیں اور سازشیں ہورہی ہیں۔کبھی لوظ پر یہ الزام لگایا، کبھی صالح پر یہ الزام لگایا اور ساری مذہب کی تاریخ اس قسم کے فرضی خطرات سے بھری پڑی ہے لیکن خدا ہمیں بتاتا ہے کہ خطرات تو ضرور ان قوموں کو در پیش تھے لیکن وہ زمین سے آنے والے خطرات نہیں تھے وہ آسمان سے نازل ہونے والے خطرات تھے۔پھر ایسی آندھیاں آئیں، ایسے خوفناک خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے پکڑنے والے ایسے فرشتے آئے کہ ان کا کوئی وجود باقی نہ رہا، وہ کہانیاں بن گئے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم نے یہ دیکھنا ہو کہ ان پر کیا بنی اور کیا گزری تو مٹی ہوئی قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کروان راہوں پر سفر کرو جن راہوں پر وہ کبھی آباد تھے اب وہ زیر زمین دفن ہیں۔یہ بھی ہم ان کو بتارہے ہیں ان کو نظر نہیں آسکتا کہ میاں خطرہ تو تمہیں ضرور ہے ہماری طرف سے لیکن یہ خطرہ آسمان سے نازل ہونے والا خطرہ ہے۔اس لئے اس طرف اپنے بچاؤ کا کوئی انتظام کرو کچھ اس طرف سے اپنی حفاظت کا کوئی خیال کرو۔یہ تمام باتیں اور بھی بہت سے قصے ہیں لیکن یہ تو بہت ہی وسیع مضمون ہے میں نے نمونہ چند باتیں بتائی ہیں یہ بتانے کی خاطر کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس ملک کو اس حکومت کو اگر شرعی سلطان کہہ دیا جائے تو یہ ظلم یہاں تک نہیں رہتا پھر یہ منتقل ہو جاتا ہے قرآن کریم کی طرف کہ حضرت اقدس محمد نے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور خدا کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔پس عدالت نے جو شرعی عدالت کے نام پر قائم تھی جب یہ فیصلہ دیا کہ اس حکومت کو وہ حق تھا سب کچھ کرنے کا جو انہوں نے جماعت سے کیا تو بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ مسلمان سلطان کو جو شرعی سلطان ہے اس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کو فتنہ سے بچانے کے لئے جو چاہے کرے۔اس حکومت کو جب شرعی سلطان کا نام دے دیا گیا تو سارے پاکستان میں جو ظلم ہورہے ہیں وہ سارے شرعی ہو گئے۔گویا یہ اتھارٹی مل گئی کہ آئندہ کے لئے دنیا میں جہاں کہیں بھی جب بھی فوجی انقلاب بر پا ہوگا وہ انقلاب قرآن کریم کے مطابق شرعی انقلاب کہلائے گا اور اگر ایک شرعی انقلاب پیدا ہوا ہے اور دوسرا انقلاب اس کو آکر مٹادے اور اسکے ٹکڑے اڑا دے تو قرآن کی رو سے وہ بھی شرعی انقلاب ہے۔اگر ایک انقلاب دن کو رات کہتا ہے اور رات کو دن تو وہ بھی شرعی انقلاب ہے۔دوسرا اس کے دن کو رات