خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 502
خطبات طاہر جلد ۳ 502 خطبہ جمعہ کار ستمبر ۱۹۸۴ء کہ یہ تو کافی نہیں ہے ضرور اس نے کوئی اور ترکیب کی ہوگی۔تو کچھ دیر کے بعد اس نے ایک دم پلیٹ میں ہاتھ مارا اور کہا کہ بس تم نے جو کھانا تھا کھا لیا باقی میرا ہے اب یہ میرے لئے رہنے دو۔وہی حال اس پاگل حکومت کا ہوا ہوا ہے کہ چونکہ نظر نہیں آرہا کہ احمدی ہمارے خلاف کیا کر رہے ہیں اس لئے ضرور کچھ کر رہے ہوں گے اور چونکہ کر رہے ہوں گے اس لئے علاج یہ ہے کہ ان کو اور دکھ دیا جائے اور تکلیف دی جائے اور ان کے حقوق ان سے چھینے جائیں اس کے بغیر یہ باز نہیں آتے اور چونکہ اور ہم نے حقوق چھین لئے ہیں اس لئے اور کچھ کر رہے ہیں اس لئے اب ”میرا حصہ“ والی بات رہ گئی ہے۔چنانچہ اس کی بھی تیاریاں ہو رہی ہیں یعنی ” میرے حصہ“ کی۔اب سارے ملک میں جو ایک ہی ملک ہے جو ساری دنیا میں اپنی مثال ہے کہ جس میں صرف احمدیوں کی جائیدادوں کے حساب گورنمنٹ تیار کر رہی ہے کہ ان کی تجارتیں اور ان کی جائیدادیں ، انہوں نے کیا مال بنائے؟ کہاں زمین خریدی؟ کس بنجر کو آباد کیا گناہ کر کے اور ملازمتوں میں پرائیویٹ ملازمتوں میں، کہاں کہاں ہیں صرف حکومت کے ملازمتوں کی بات نہیں۔تو معلوم ہوتا ہے کہ وہی دماغ میں پڑا ہوا ہے کہ باقی ” میرا حصہ۔اب احمدیوں نے جو کرنا ہے کر لیا ہے اب ہمارا حصہ باقی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کب تک ان کو یہ توفیق ملتی ہے اور کس حد تک ان کے خطرے بجا ہیں؟ خطرہ تو ان کو ضرور ہے احمدیوں سے یہ بھی بتادیتا ہوں لیکن اس سمت سے نہیں ہے جس سمت میں یہ دیکھ رہے ہیں۔بڑے بد قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں جو خطرے کا احساس کرتے ہیں اور کسی خاص سمت میں خطرہ سے بچنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اور خطرہ کسی اور سمت سے آجاتا ہے۔جس سمت سے ان کو خطرہ ہے اس سمت کی طرف ان کا تصور ہی نہیں جا سکتا کیونکہ یہ سفلی لوگ ہیں، یہ دنیا کے کیڑے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ الہی قوموں کی طرف سے جب خطرے آتے ہیں تو وہ آسمان سے نازل ہوا کرتے ہیں وہ زمین سے نہیں اٹھا کرتے۔خدا کی خاطر صبر کرنے والوں کے صبر آسمان تو ڑا کرتا ہے وہ نہیں توڑا کرتے۔پہلے کتنی قو میں آئی تھیں جن سے اس زمانے کی قوموں نے بھی اسی قسم کے خطرات محسوس کئے تھے۔وہ یہی سوچتے رہے کہ انہوں نے ہمارے خلاف سازش