خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 496

خطبات طاہر جلد ۳ 496 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۸۴ء سے دھمکی جو منسوب کی جاتی ہے کسی احمدی کی طرف اس پر مقدمہ قائم کر دیا جاتا ہے اور ایسی ایسی لغو اور جاہلانہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت تصور بھی نہیں کر سکتی کہ ان باتوں پر بھی مواخذہ ہو سکتا ہے اور کوئی ان کو اہمیت دے۔ دے سکتا ہے کہ ہاں ایسا ہو سکتا ہے ۔ ہمارے ناظر صاحب اصلاح وارشاد ہیں سلطان محمود انور صاحب ان کے نام پر ، ان کے پیڈ کے اوپر ایک مولانا کے نام جو ربوہ کے مولانا ہیں ان کے نام دھمکی کا خط کہ میں ناظر اصلاح وارشاد تمہیں بتاتا ہوں کہ اگر تم بکواس کرنے باز نہیں آؤ گے تو میں تم سے ایسا سلوک کروں گا کہ جہاں اسلم قریشی ہے وہاں پہنچا کر چھوڑوں گا اور یہ دھمکی کا خط اور دستخط جیسے ان کے نہیں ہیں۔ دستخط بھی بنانے کی کوشش کی نہیں بن سکے اس سے اور یہ ایک با قاعدہ پولیس میں مقدمے کے طور پر درج ہوا ہوا ہے کہ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے تم نے لکھا تھا۔ جہالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ اشتراکی حکومتوں کے متعلق فرضی داستانیں ہیں ۔ یہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر بڑی ظلم کی داستانیں مشہور ہیں ان کی طرف منسوب کردہ لیکن جہالت اتنی نہیں ہے۔ وہ بناتے ہیں تو سلیقے اور عقل سے بات بناتے ہیں۔ یہاں تو نہ سلیقہ رہا ہے نہ تو عقل ہے صرف ظلم کا فیصلہ ہے کہ ہم نے بہر حال ظلم کرنا ہے۔ دنیا کی متمدن حکومتوں میں کبھی یہ نہیں دیکھا گیا تھا کہ حکومت مذہبی لحاظ سے فریق بن گئی ہو اور اپنے شہریوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے ان کے خلاف فریق بن کے ان کے مذہب پر حملے کرنے لگ جائے ۔ بعض حکومتوں میں بعض مذاہب کے متعلق کہا جاتا ہے یا بعض فرقوں کے متعلق کہ وہ Ban ہو گئے ہیں لیکن یہ تماشہ ان متعصب حکومتوں میں بھی کبھی نہیں دیکھا گیا کہ حکومت ایک مذہبی فریق بن کر ان کے خلاف نظریاتی لڑیچر شائع کرے اور لٹریچر بھی شائع نہ کرے بلکہ نہایت جھوٹا اور ذلیل اتہامات پر مبنی لڑیچر شائع کرے اور جب اسکے مقابل پر آواز اٹھائی جائے کہ اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے ہمیں اجازت دی جائے تو وہ کہیں کہ تم کیا حق رکھتے ہو جواب دینے کا ؟ یہ تو صرف ہمارا کام ہے فیصلہ دینا اور لکھو کہا روپیہ دے کر بعض رسائل کے منہ کالے کر وادیئے گئے ہیں ۔ نہایت گندے اور بودے الزامات حضرت مسیح موعود علیہ السلاۃ والسلام کے اوپر لگوا کر اور بکواس کروا کر اور پھر جھوٹ بولنے میں بھی عقل ذرا نہیں کی گئی۔ بعض جھوٹے حوالے جو نیشنل اسمبلی میں حضرت مسیح