خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 495
خطبات طاہر جلد۳ 495 خطبہ جمعہ کار ستمبر ۱۹۸۴ء متعلق یہ الزام لگایا گیا کہ بعض احمدی اس لڑکے کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے مولانا منظور چنیوٹی صاحب کا بچہ سمجھ کر اس لئے وہ پکڑے جانے چاہئیں۔پرانے معاملات نکال کر جہاں غنڈوں، لفنگوں نے نہایت ہی گندے الزام کسی پر لگائے ہوئے تھے پولیس نے یہ سمجھا کہ اتنے لغو اور بے ہودہ الزامات ہیں ان کی شنوائی نہیں ہونی چاہئے اس لئے ان کا غذات کو داخل دفتر کر دیا گیا تھا۔اب وہ پرانے کاغذات نکال کر پھر ان پر مقدمے بنائے جارہے ہیں۔تو انصاف جس طرح بٹ رہا ہے اسکی میں ہر ایک جہت میں ایک ایک دو دو مثالیں دے رہا ہوں ورنہ ان کی بکثرت مثالیں موجود ہیں۔ملازموں کو برطرف کیا جا رہا ہے نہ صرف یہ کہ حکومت کے ملازموں کو بلکہ حکومت سے باہر جو پرائیویٹ ادارے ہیں ان کو بھی حکماً برطرف کروایا جارہا ہے ملازمتوں سے۔ایک واقعہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا ایک مل ہے اس مل کے ایک احمدی ملا زم کو ڈپٹی کمشنر کے حکم سے اس لئے بر طرف کروایا گیا کہ وہ سٹینو گرافر تھا اور یہ حکم جاری ہوا کہ اتنا بڑا اہم عہدہ کہ کوئی سٹینوگرافر ہو اور تم کہتے ہو کہ (Key Post) پر احمدی نہیں کلیدی آسامی نہیں ہے۔اس مینجر بیچارے کو بھی ڈانٹ پڑی جس نے پہلے یہ جواب دیا تھا کہ کوئی احمدی کلیدی آسامی پر نہیں ہے اور اسکو حکما بر طرف کروا دیا گیا۔ایک مل کے ایک ملازم سے نیکی اور ثواب کی خاطر فوراً کوارٹر چھین لیا گیا کہ تم احمدی ہو تمہارا مل کے کوارٹروں میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔اس نے مجھے اطلاع دی کہ مجھے پہلے یہ خیال آیا کہ میری قربانی ہے مجھے وہ کہتے تھے کہ تم کہہ دو میں احمدی نہیں ہوں ہم تمہیں فورا دے دیتے ہیں تو میں نے کہا اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تم مجھے نکال دو جو مرضی ظلم کرو لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں کوارٹر کی خاطر یا کوئی دنیا کے لالچ کی خاطر احمدیت سے انکار کر دوں۔انہوں نے نکال دیا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ مجھ سے زیادہ تو میری بیوی کی قربانی ہے، آٹھ ماہ کی حاملہ بہت چھوٹی سی کوٹھڑی میں انتہائی گرمی میں جہاں پنکھے کا بھی انتظام نہیں تھا اور پہلے سے اسکی طبیعت خراب تھی نہ صرف یہ کہ حو صلے سے وقت گزارتی رہی بلکہ مجھے حو صلے دیتی رہی کہ خبر دار کسی بات میں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔جو کچھ ہوگا بالکل ٹھیک ہے۔یہ اسلامی نظام کا نفاذ ہورہا ہے۔ایک اور دلچسپ قصہ یہ چلایا جارہا ہے کہ دھمکیاں ملنے لگ گئی ہیں علما کو تحریری اور ہر تحریری