خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 497
خطبات طاہر جلد ۳ 497 خطبہ جمعہ ۷ ستمبر ۱۹۸۴ء موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا بعض کتب کی طرف منسوب کر کے پیش کئے گئے تھے اور وہاں حضرت خلیفة أصبح الثالث نے بتا دیا تھا کہ میاں حوالے تو درست کر لو جو کہنا ہے کہو لیکن کم سے کم حوالے تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ حوالہ یہ نہیں یہ ہے مثلاً ایک کتاب ہے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ہے جب 1974ء میں نیشنل اسمبلی میں معاملہ پیش ہوا تو اس کتاب کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف منسوب کر کے یہ الزام لگایا گیا کہ اب بتاؤ تم تو کہتے تھے کہ ہمارے علما نے کچھ لکھ دیا ہوتو ہمیں غرض نہیں ہے۔اب تو یہ تمہارے خلیفہ کی بات ہے خلیفہ یہ لکھ رہا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ اتنے غلط حوالے تم دیتے ہو ایک یہ بھی ہے۔اس میں تم نے مصنف کا نام ہی بدل دیا ہے۔یعنی مرزا بشیر احمد نام ہے یہ خلیفہ نہیں تھے بلکہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ تھے۔درستی کروادی، اب پھر جو حکومت نے وائٹ پیپر شائع کیا ہے اس میں وہی حوالہ اسی طرح دے دیا ہے۔اتنی بھی تکلیف نہیں کی کہ جو جھوٹ پہلے سے جماعت نے کھول دیا تھا اور بتا دیا تھا بلکہ ترکیب بتادی تھی کس طرح تم نے اسکو استعمال کرنا ہے اتنی بھی عقل نہیں ہے۔بعض کتابیں جن کے فرضی نام تھے۔وہ کتا بیں ہی نہیں۔وہ بھی وائٹ پیپر میں اسی نام سے شائع ہو گئیں۔مثلاً کوئی ایسا نام کہ مرزا غلام احمد صاحب کے ارشادات اور مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی۔ایسی ایسی لغو باتیں اور پھر سیاق و سباق سے اٹھا کر جو حوالے سچے وہ بھی جھوٹے ان معنوں میں کہ نہ دائیں سے دیکھا اور نہ بائیں سے دیکھا جو مضمون بیان کرنا مقصد ہی نہیں ہے لکھنے والے کا اس مضمون میں حوالے پیش کئے گئے اور ثابت کیا جا رہا ہے کہ نعوذ بـالــلــه مـن ذلک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے آپ کو آنحضرت علی اللہ سے افضل سمجھتے تھے۔جہالت کی حد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کسی نے کتا میں سرسری نظر سے بھی ب کتابیں پڑھی ہوں وہ اور جو کچھ کہے گا مگر یہ الزام نہیں لگا سکتا۔ایسے بڑے بڑے مخالفین گزرے ہیں جو یہ کہا کرتے تھے کہ باقی سب کچھ ہے لیکن ہیں عاشق آنحضرت ﷺ کے۔ظفر علی خان مرحوم نے اپنی مسجد پر جو شعر لکھوائے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تھے۔جب عشق رسول کی بات ہوتی تھی تو بعض پرانے زمانہ کے شدید مخالف بھی لازماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے اقتباسات