خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 478 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 478

خطبات طاہر جلد ۳ 478 خطبه جمعه ۳۱ اگست ۱۹۸۴ء عدالت کہہ رہی ہے کہ نہیں تم غلط کہتے ہو یہ شیعہ نقطہ نظر سے ہو گی ہمارا فیصلہ ہیکہ یہ نہیں ہے۔ ایک شرعی عدالت کہہ رہی ہے کہ وھابی یا اہل حدیث نقطہ نظر سے یہ فیصلہ ہم دیتے ہیں اور ایک شرعی عدالت کہہ رہی ہے کہ بالکل غلط بریلوی نقطۂ نگاہ سے تو یہ فیصلہ ہے اور چونکہ ہمارے ملک میں بریلوی اکثریت ہے ہمارا سلطان بریلوی ہے اس لئے ہماری شرعی عدالت کا فیصلہ چلے گا اور اتنے نمایاں فرق ہیں بنیادی کہ بیک وقت اگر سب کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قرآن کریم اتنے تضادات کا مجموعہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے دیکھ کر کہ ایسے تضاد ایک جگہ سما کیسے گئے ؟ ایک نیام میں دو تلواریں تو نہیں سما سکتیں لیکن شیعہ فیصلے اور سنی فیصلے سما جائیں گے؟ بریلوی فیصلے اور دیو بندی فیصلے سما جائیں گے یہ تو نا ممکن ہے ان کا اختلاف تو اس سے بھی زیادہ شدید ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اگر آغا خانی عدالت کہیں قائم ہو جائے تو وہ بھی شامل کرنے پڑیں گے فیصلے شریعت کی رو سے اور آغا خانی فیصلوں میں یہ بھی فیصلہ شامل ہے کہ تمیں پاروں کا قرآن جو ہے وہ تو Obsolete ہو چکا ہے بوسیدہ ہو گیا ہے ایک دس پاروں کا قرآن جو آغا خانی ائمہ پر نازل ہوا تھا اس کے بغیر بات نہیں بنتی اور قرآن اور سنت کے مقابل پر غنی یعنی گانا کو بگڑا ہوا غنی کہتے ہیں لیکن اصل میں وہ غنی تھا غنی بگڑ کر گنا بن گیا ہے۔ تو جو انہوں نے گانے بنائے ہوئے ہیں شریعت کے متعلق ان کا فیصلہ لازمی چلے گا اور وہی غالب آئے گا اور ان فیصلوں میں ایک یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ حضرت علی ہی اصل خدا ہیں اگر غلط فہمی نہ ہو چنانچہ کلمہ کے اندر داخل کر لیا گیا ہے اس بات کو کہ فلاں یہ ہے فلاں یہ ہے اور علی اللہ برحق ہے اور جو اس کے خلاف فیصلہ دے گا وہ شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے۔ تو ایک عدالت آغا خانیوں کی بیٹھ کر بھی فیصلے دے گی تو کیا بنے گی شریعت کی حالت ؟ اس لئے چارہ نہیں رہتا سوائے اس کے کہ انسان مجبور ہو جائے قرآن کی طرف رجوع کرنے پر اور قرآنی رجوع کے سوا ان مسائل کا کوئی اور حل ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں دو طریق پر شرعی عدالتوں کو قائم فرمایا اور آزاد کر دیا کہ سارے بنی الله نوع انسان اس سے فائدہ اٹھا۔ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں رحمہ اللعلمین یعنی آنحضرت مال پر جو تعلیم نازل ہوئی ہے وہ ایسی عظیم رحمت ہے ساری کائنات کے لئے رحمت ہے کہ اگر انگریز بھی اس پر عمل تو وہ بھی شریعت اسلامیہ کے مطابق فیصلہ کرنے کا مجاز ہو جائے گا، اگر یہودی اس پر عمل