خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 477 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 477

خطبات طاہر جلد۳ 477 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء سلطان ہے، کوئی ایران کا سلطان ہے، کوئی شام کا سلطان ہے، کوئی لیبیا کا سلطان ہے، کوئی شمالی یمن کا سلطان ہے اور کوئی جنوبی یمن کا سلطان ہے اور ایک پاکستان کا بھی سلطان ہے۔تو سوال یہ ہے شریعت کی رو سے اب یہ فیصلہ تو ضروری ہے کہ ان سلاطین میں سے جو مختلف نوعیت کے سلاطین ہمیں نظر آتے ہیں اور ان کے رجحانات بھی الگ الگ ہیں، اسلامی شریعت کس کو اسلام کی نمائندگی میں سلطانی کا حق دے رہی ہے اور وہ تمیز کونسی ہے جس کی رو سے ہم یہ کہہ سکیں کہ پاکستان کا سلطان تو شرعی سلطان ہے لیکن ایران کا سلطان شرعی سلطان نہیں۔سنی سلطان تو شرعی سلطان ہے لیکن شیعہ سلطان شرعی سلطان نہیں۔شمالی یمن کا سلطان جو سعودی عرب کے ساتھ رجحان رکھتا ہے وہ شرعی سلطان ہے لیکن جنوبی یمن کا سلطان شرعی سلطان نہیں حالانکہ دونوں مسلمان ممالک ہیں۔لیبیا کا سلطان تو شرعی سلطان ہے لیکن مصر کا سلطان یا سوڈان کا سلطان شرعی سلطان نہیں یا یہ کہ عراق کا سلطان تو شرعی ہے لیکن شام کا نہیں ہے۔تو یہ تفریق کس آیت کی رو سے کس حدیث نبوی کی رو سے ہوگی ، جب تک ہم اس بحث میں نہ داخل ہوں پہلا فیصلہ خواہ دھاندلی سے بھی کیا گیا ہو بے معنی ہو جایا کرتا ہے اور بے معنی ہو جائے گا۔اگلے فیصلے میں سوائے اس کے چارہ نہیں کہ ہر سلطان کو اسلامی شریعت کا سلطان مانا جائے اس کے بغیر تو آپ اس مخمصے سے نکل ہی نہیں سکتے۔اب ان سلطانوں کو شرعی عدالتیں قائم کرنے دیجئے۔ایک شرعی عدالت خمینی صاحب کے تابع ہوئی ہے ایک نمیری صاحب کے تابع بنی ہے، ایک جنرل قذافی کے تابع بن گئی ایک پاکستان میں بنی ہوئی موجود ہے پہلے سے ہی۔اور سعودی عرب کی بھی شرعی عدالتیں ہیں تو ایک ہی موضوع پر ان سب کے فیصلوں کا اختلاف کیا نتیجہ نکالے گا کہ اسلام کی تعلیم اس طرح آپس میں بٹی ہوئی ہے جس کے متعلق قرآن کا دعویٰ تھا کہ کوئی تضاد تمہیں ساری کائنات میں نظر نہیں آئے گا اس کا کلام اس طرح تضادات کا شکار کہ ہر سلطان دوسرے کا دشمن، ایک دوسرے کا مخالف ، ایک دوسرے کی طرز حکومت کو غلط قرار دینے والا اور قرآن کہتا ہے یہ سارے سلطان درست کہہ رہے ہیں ہم نے حق دیا ہے اور ہر سلطان کی شرعی عدالت ایک الگ فیصلہ کر رہی ہے اور اس فیصلے کی رو سے اگر اس فیصلے کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ حق بنے گا کہ ہر شرعی عدالت کا فیصلہ عین قرآن کا فیصلہ ہے۔جب ایک سلطان کہہ رہا ہے کہ فلاں بات یوں ہے ، یوں نہیں ہے یا اسکی شرعی عدالت کہہ رہی ہے کہ فلاں بات یوں نہیں ہے اور دوسری