خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 479 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 479

خطبات طاہر جلد۳ 479 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء کرے گا تو وہ بھی مجاز ہو جائے گا، اگر ہندو اس پر عمل کرے گا تو وہ بھی مجاز ہو جائے گا۔دوشرطیں ہیں ایک یہ کہ عدل پر قائم رہو اگر عدل نہیں ہوگا تو پھر شریعت کے ساتھ تمہارے فیصلوں کا کوئی تعلق نہیں۔دوسرا فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ (النساء:۲۰) باتوں کو اپنے فقیہوں یا مولویوں کی طرف نہ لوٹایا کرواگر فیصلہ دیتے وقت تم قرآن اور سنت کی طرف لوٹاؤ گے اور وہیں تک محدود رہو گے تو پھر تمہارے فیصلے قرآن اور سنت کے فیصلے کہلا سکتے ہیں، ایک شرط کے ساتھ کہ وہ تقویٰ کے ساتھ کئے گئے ہوں۔چنانچہ بار بار تقویٰ کا مضمون بھی ساتھ باندھ دیا جن آیات میں یہ ذکر فر مایا وہاں تقویٰ کا بھی ساتھ ذکر فرمایا۔تقویٰ شرط ہے، اگر تقویٰ کے ساتھ کرو گے اور دیانتداری کے ساتھ تقویٰ کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن اور سنت کے مطابق بات کرو گے تو تم نا فرمان نہیں کہلا سکتے لیکن پھر بھی تمہارا فیصلہ ایسے شخص پر لاگو نہیں ہو گا جس کے نزدیک قرآن اور سنت کچھ اور بات کہہ رہے ہوں۔یہ بھی ساتھ وضاحت ہوگئی کیونکہ یہ حکم سب مسلمانوں کو عام ہے اور اس کے لئے جو سب سے بڑی سند ممکن ہے پیش کرنی جو بعد کے سب مسلمانوں کو قبول ہونی چاہئے وہ میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں وہ میں آپ کو سناؤں گا کہ نبوت کے بعد کوئی اگر شرعی عدالت قائم ہو تو اس کے حقوق کیا ہیں۔ایک ایسا واقعہ گذرا ہے عالم اسلام میں جب کہ ایک ایسی شرعی عدالت قائم کی گئی تھی جس کو خلیفہ وقت کی سند حاصل ہوئی اور اس عدالت کے مقابل پر اس عدالت کی جو آج بنی یا کل بن سکتی ہے کوئی حیثیت ہی نہیں اور اس عدالت نے ایک فیصلہ دیا ہوا ہے۔اور بڑا واضح اور کھلا فیصلہ ہے۔شرعی عدالت قائم کرتے وقت یہ فیصلہ دیا ہوا ہے کہ اس عدالت کی حیثیت یہ ہے اور حیثیت یہ ہے کہ اگر یہ خلاف بھی فیصلہ دے تو وہ فریق جو یہ سمجھتا ہو کہ قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ نہیں ہے وہ اس فیصلے کا پابند نہیں رہے گا۔اس سے بڑھ کر شرعی عدالت کیسے قائم ہوسکتی ہے؟ وہ میں شرعی عدالت کا قصہ آپ کو سناتا ہوں۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ یعنی اسلام کے چوتھے خلیفہ اور حضرت معاویہ کے درمیان اختلافات کا حال سب کو معلوم ہے۔یہ اختلافات اتنے شدید ہو گئے کہ جنگ پر نوبت پہنچی اور مسلمان ایک دوسرے کا خون کرنے لگے۔بڑی ہی تکلیف دہ صورت حال تھی اور آج تک اسلامی تاریخ کا یہ