خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد ۳ 476 خطبه جمعه ۳۱ را گست ۱۹۸۴ء ذریعہ آنے والے سلطان کو حق دیتا ہے جو عوامی انقلاب ہو یا فوجی جنتا کے ذریعہ آنے والے آمر کو قرآن کریم سلطانی کا حق دیتا ہے؟ یہ تین بنیادی سوال ہیں جب تک یہ طے نہ ہو جائیں کیسے پتہ چلے گا کہ کوئی سلطان شریعت کے لحاظ سے حکومت کا حق بھی رکھتا ہے کہ نہیں رکھتا ؟ اس لئے ان تین پہلوؤں پر کوئی بحث میرے علم میں نہیں آئی حالانکہ یہ بنیادی باتیں تھیں۔جب تک پہلے کسی کی سلطانی کا حق مسلم نہ ہو جائے اس کے بغیر اگلے حقوق اس کو کس طرح مل سکتے ہیں اور پھر شریعت سے کھیلنے کا حق یہ سب سے بنیادی چیز ہے۔یہ فیصلہ ہونا چاہئے تھا کہ قرآن اور رسول کے فرمودات کے مطابق اس طرح سلطان بنا کرتے ہیں؟ اسلام انتظار کیا کرتا ہے فوجی انقلاب کا ؟ جب کسی ملک میں فوجی انقلاب آ جائے تو قطع نظر اس کے کہ سارا ملک اس سے بیزار ہے یا نہیں بیزار، اس کے حق میں ہے یا مخالف ہے،شریعت اسلامیہ فوراً اپنے تمام حقوق اس کو تفویض فرما دیتی ہے اور کہتی ہے جاؤ اب سلطانی کے حقوق کے مزے لوٹو اور شریعت کے نام پر جو چاہو فیصلے کرو قرآن تمہارے پیچھے اور رسول تمہارے پیچھے ہے۔یہ فیصلہ اگر ہے تو پھر دینا چاہئے تھا کیونکہ اس کے بغیر تو اگلا فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا لیکن یہ خاموش فیصلہ ہے جو عملاً دے دیا گیا ہے۔سب سے بڑا ظلم جو اسلام کے نام پر ہوا یہ ہوا ہے۔جب اگلا قدم اٹھا لیا گیا تو یہ تسلیم شدہ فیصلہ ہے اس کے اندر کہ شرعی عدالت کے نزدیک یعنی جو پاکستان کی شرعی عدالت ہے ہر وہ فوجی جو فوجی طاقت کے ذریعہ ملک میں انقلاب بر پا کر کے اس کو اسلام سلطانی کے حقوق دیتا ہے قطع نظر اس کے کہ جمہور اس کو تسلیم کریں یا نہ کریں اور پھر قرآن اور سنت کی نمائندگی کا حق دیتا ہے، قرآن اور سنت کے نام پر جو چاہے آرڈینینس جاری کرے اور جو چاہے شریعت میں مداخلت کرے اس کی بات مانی جائے گی اور جس عدالت کو وہ شرعی عدالت قرار دے دے اس عدالت کے سارے فیصلے شرعی کہلائیں گے۔یہ ان لفظوں میں نہیں کہا گیا کیونکہ ان کی بنیاد کوئی نہیں تھی لیکن جب عدالت نے اپنا حق تسلیم کر لیا شرعی عدالت کہلانے کا تو یہ اس کے اندر مضمر باتیں ہیں خود بخو داس کے اندر داخل ہو گئیں۔مگر اس فیصلے کے بعد نظر کرتے ہیں کہ عالم اسلام یا تو نبوت کے نیچے ایک رہتا ہے یا خلافت کے نیچے ایک رہتا ہے، جب سلطانیاں شروع ہو جاتی ہیں وہ تو بٹ جایا کرتا ہے اور یہی ہوا اسلام کے ساتھ۔آج ایک سلطان تو نہیں ہے آج تو بہت سے سلاطین ہیں، کوئی سعودی عرب کا