خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 41 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 41

خطبات طاہر جلد ۳ 41 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء صلى الله عروسه ۔ دیکھ کر متغیر ہو گیا ۔ مسلمانوں نے عرض کیا یا رسول الله عل! کیا آپ کو اس کام میں کچھ کر اہت آرہی ہے ۔ آپ نے فرمایا کیوں نہ آئے میں اپنے بھائیوں کی دشمنی میں شیطان کا مددگار نہیں ہونا چاہتا ۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے اور بخش دے تو تم کو چاہئے کہ لوگوں کے گناہوں کو چھپاؤ کیونکہ جب تم سلطان کے پاس جاؤ گے تو حد جاری کرنا اس پر ضروری ہو جائے گا۔ (کتاب الاخلاق صفحه : ۲۷۳) بہت ہی پر حکمت تعلیم ہے۔ ستاری کہاں کی جاسکتی ہے اور کہاں نہیں کی جاسکتی ، کہاں عفو پر ہاتھ کھلے ہیں کہاں بندھ جاتے ہیں اور جماعت کو خاص طور اس حدیث کے مضمون پر غور کرنا چاہئے۔ اگر کوئی کسی میں برائی دیکھتا ہے تو یہ ایک غلط فہمی ہے کہ اس برائی کو لازماً شکایت کر کے سزا دلوانی چاہئے ۔ یہ فرض نہیں ہے آپ کا۔ آنحضرت ﷺ نے نا پسند فرمایا ہے اس بات کو لیکن کن برائیوں میں شکایت کرنی چاہئے اور کن میں نہیں کرنی چاہئے ، یہ ایک الگ مضمون ہے۔ نہ کرنے والی باتیں جہاں تک ہم نے معلوم کیں حدیث سے اور اسوہ سے وہ وہ ہیں جہاں صلى الله عروسه ذاتی قصور ہے کسی انسان کا انفرادی قصور ہے اور جہاں نظام جماعت یا نظام اسلام کے خلاف کوئی شرارت ہے وہاں ایک مرتبہ بھی آنحضور علی نے بات پہنچانے سے منع نہیں فرمایا بلکہ ان باتوں کو اس طرح سنتے تھے غور سے اور توجہ سے کہ قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ غیر طعنہ دیا کرتے تھے کہ وہ أذن ہے، وہ تو مجسم کان ہے شکائیتیں سننے کے لئے۔ فرمایا ذُنْ خَيْرٍ لَّكُمْ (التوبۃ : ۶۱ ) ہے تو وہ مجسم أذن لیکن جس طرح تم کہہ رہے ہو ان معنوں میں نہیں خیر کے لئے اذن ہے۔ وہ وہ باتیں غور سے سنتا ہے جن سے قومی بھلائیوں کا تعلق ہے اور جن سے قومی بھلائیوں کا تعلق نہیں ان سے صرف نظر کرتا ہے اور ہرگز ان کو نہیں سنتا۔ الله تو آنحضرت ﷺ کا اسوہ اس میں تفریق فرما رہا ہے جہاں قومی نقصان کے خطرے ہوں وہاں ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ بات کو متعلقہ نظام تک پہنچائے ۔ جہاں انفرادی غلطیاں ہوں وہاں آنحضرت علی صلى علوس الله کی کی تعد تعلیم یہ ہے کہ ان سے صرف نظر بھی کرو اور ان کو ان لوگوں تک پہنچانے سے حیا کرو کہ جن تک اگر پہنچ گئی تو ان کا فرض ہو جائے گا کہ وہ سزا دیں ان کے ہاتھ بندھ جاتے ہیں وہاں، وہ نظام کے نمائندہ ہوتے ہیں نظام کو جاری کرنا خدا نے ان کی ذمہ داری ڈالی ہوتی ہے۔ جب ان تک