خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 461

خطبات طاہر جلد ۳ 461 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء علم ہو کہ خدا تعالیٰ کس طرح تمام دنیا میں کثرت سے اپنے فضل نازل فرما رہا ہے اور اسکے لئے میں نے آج تبلیغ کا موضوع چنا ہے۔جانی قربانی اور مالی قربانی اور جذبات کی قربانی سے متعلق اور ان جہات میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا ذکر میں بارہا پہلے کرتا آیا ہوں۔اب میں تبلیغ کے موضوع پر آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں تبلیغ کی ایک نئی روچل پڑی ہے اور ایسے ممالک جہاں بہت ہی سست رفتار تھی وہاں بھی خدا کے فضل سے بڑی تیزی آرہی ہے اور ایسی قومیں جن میں احمدیت کا نفوذ بہت ہلکا تھا سست روی پائی جاتی تھی ان میں بھی بڑی تیزی سے اب جماعت کی طرف رجوع ہو رہا ہے۔چنانچہ گذشتہ ایک دو ماہ کے اندر عربی بولنے والی قوموں میں سے خدا کے فضل سے ۲۷ بیعتیں موصول ہوئی ہیں اور اہل عرب خالص بھی ہیں اور شمالی افریقہ کے عرب بھی اس میں شامل ہیں تو یہ رجحان پہلے نظر نہیں آتا تھا۔یورپ کے دو ممالک میں بلکہ تین میں خدا کے فضل سے عربوں نے وہاں بیعتیں کیں اور بڑے مخلص ہیں۔ڈنمارک میں تو اوپر تلے دوعرب نو جوانوں نے بیعتیں کی ہیں اور بڑی تیزی کے ساتھ وہ اخلاص میں ترقی کر رہے ہیں، لٹریچر لے رہے ہیں، توجہ دلا رہے ہیں، مشورے دے رہے ہیں کہ کس طرح ہماری قوم میں تبلیغ ہونی چاہئے اور اچھے خاصے وہاں کے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ خاندانوں کے افراد ہیں۔تو یہ بھی ایک اللہ کا غیر معمولی فضل ہے جس کو نظر میں رکھنا چاہئے۔صرف درد کے ساتھ دعا نہیں ہونی چاہئے شکر کے ساتھ بھی دعا ہونی چاہئے یہ پہلو جو ہے اس کو آپ نظر انداز نہ ہونے دیں کبھی بھی کیونکہ درد سے ہلکی سی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔جتنا زیادہ ادب کا مقام ہواتنا انسان اس شکایت کو دبا لیتا ہے اپنی آواز میں لیکن اس کی سسکیاں پھر بھی بیان کر دیتی ہیں اس شکایت کو، چھپ تو نہیں سکتی اس لئے خدا کے حضور جہاں در دبھری سسکیاں لیتے ہیں وہاں شکر کا بھی اظہار کیا کریں کہ ان اندھیروں میں بھی وہ روشنی کے سامان پیدا فرما رہا ہے۔جرمنی کے متعلق میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ یورپ کے سب ملکوں میں سب سے آگے ہے خدا کے فضل سے اور سو ( 100 ) کا جو میں نے ان کو سال کا ٹارگٹ دیا تھا اس میں سے وہ نصف تک پہنچ چکے ہیں یعنی نصف جولائی تک ساڑھے چھ مہینے میں خدا کے فضل سے ۵۰ بیعتیں وہاں ہو چکی ہیں اور