خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 460
خطبات طاہر جلد ۳ 460 خطبه جمعه ۲۴ / اگست ۱۹۸۴ء تو جمع نے یہ ایک نیا معنی پیدا کر دیا اور دوسرے بیک وقت عُسر اور یسر کے نظارے کو دکھانے کے لئے بھی مع کے لفظ نے ایک اور مضمون اس آیت میں بھر دیا۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بعض آزمائشیں دیکھ رہے ہو تو یہ کیوں نگاہ نہیں کرتے کہ ان آزمائشوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی حمتیں بھی تو بہت نازل ہو رہی ہیں۔جہاں تمہیں تنگی دکھائی دے رہی ہے وہاں ان آسائشوں کو بھی دیکھو کہ جو آسمان سے تمہارے لئے ساتھ ساتھ نازل ہو رہی ہیں ان میں نہ بعد پایا جاتا ہے نہ دوری پائی جاتی ہے۔بیک وقت ظاہر ہونے والا ایک نظارہ ہے جسکی طرف توجہ مبذول کروادی گئی۔چنانچہ پاکستان میں جہاں آج کل مظلومیت کا خاص دور ہے وہاں بھی بکثرت لوگ اللہ تعالیٰ کی غیبی تائید اور رحمت کے ایسے نظارے دیکھ رہے ہیں کہ سینکڑوں خطوط ایسے موصول ہوتے ہیں جن میں حیرت انگیز خدا کے پیار اور محبت کے واقعات درج ہوتے ہیں اور باہر کی دنیا والوں کو پاکستان والے وہ واقعات لکھ لکھ کر تسلیاں دیتے ہیں۔چنانچہ بہت سے لوگ جن کو خطوط موصول ہوتے ہیں ایسے پاکستان سے وہ مجھے بھجوا دیتے ہیں۔تو باہر بیٹھے اپنے رشتہ داروں کو عزیزوں کو وہاں سے وہ تسلیاں دیتے ہیں کہ فکر نہ کر وہم اللہ کے فضل سے بالکل ٹھیک ہیں۔جہاں بعض آزمائشیں ہیں وہاں خدا کے فضل بھی اس کثرت سے نازل ہو رہے ہیں اور اتنی روحانی ترقی نصیب ہورہی ہے کہ قو میں سینکڑوں سال کی ریاضتوں میں سے گزر کر جو مقامات حاصل کیا کرتی ہیں وہ اللہ تعالیٰ ہفتوں اور مہینوں میں عطا فرمارہا ہے۔تومَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کا ایک یہ بھی مفہوم ہے اور ایک یہ بھی مفہوم ہے کہ بعض جگہ آزمائشیں ہیں تو بعض دوسری جگہ کثرت سے فضل ہی فضل نازل ہورہے ہیں اور یہاں معیت میں علاقہ بدل جائے گا۔بعض علاقے آزمائشوں کے ہیں تو سارے آزمائشوں ہی کے تو علاقے نہیں ہیں خدا کے جس طرح موسم بدلتے رہتے ہیں اور بیک وقت بھی ایک وقت میں دنیا میں مختلف موسم پائے جاتے ہیں آگے پیچھے بھی موسم بدلتے ہیں اور Space میں ایک موقع پر بھی موسم بدلے ہوئے دکھائی نہیں دیتے ہیں۔تومَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا نے ایک یہ جہاں بھی معنوں کا ہمارے سامنے کھول دیا۔تو میں آج چند نمونے اللہ تعالیٰ کے احسانات کے جماعت کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ ان کو