خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 442
خطبات طاہر جلد۳ 442 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء کمرے میں پنکھا چلا کر نفل شروع کر دیئے اور ہمیں اس وقت اس کا علم ہوا جب وہ سچ سچ اپنی امی کے کہنے کے مطابق سر سجدے میں رکھ کر چلا رہا تھا، اس نے دو رکعت نماز پڑھی پر کیا پڑھی ! ہم سب حیران رہ گئے ! اتنی چھوٹی عمر میں اتنا درد اس کے سینے میں چھپا ہوا تھا کہ حضور وہ فقرات جو وہ دہراتا رہا من وعن نوٹ نہیں ہو سکتے۔یوں لگتا تھا کہ یہ اس کی زبان نہیں تھی کسی اور کے الفاظ اس کی زبان پر جاری تھے۔یہ وہ اللہ کے احسانات ہیں جو جماعت احمدیہ کو اس نے اس دور میں عطا فرما دئے ہیں۔یہ دور کچھ لمبا بھی چل جائے تو کیا قیامت ہے ! یا تو جماعت کا ایمان مٹ رہا ہو تو ہمیں خوف پیدا ہو یا تو جماعت مرتد ہونا شروع ہو جائے نعوذ باللہ من ذالک تو ہمیں خوف پیدا ہو یا تو پھیلنا بند کر دے اور غیر احمدی اس کو قبول کرنا چھوڑ چکے ہوں تب ہمیں خوف پیدا ہو۔جس جماعت کا ہر قدم ہر حالت میں بہر حال ترقی کی طرف اٹھ رہا ہے اور ایسی ایسی روحانیت کی عظمتیں اور رفعتیں اسے نصیب ہو رہی ہیں کہ ارب ہارو پیہ خرچ کر کے بھی تو میں اگر اپنی قوموں میں یہ حالت پیدا کرنے کی کوشش کریں تو یہ نہیں کر سکتیں۔ساری عرب کی دولت اگر اسی کام پر خرچ ہو جائے کہ مسلمانوں میں روحانیت کا وہ مقام پیدا کر دیں جس کے نظارے آج احمد بیت دیکھ رہی ہے تو وہ نا کام ہوں گے کیونکہ روحانیت دولت کے ذریعے نہیں عطا ہوا کرتی۔روحانیت تو اس کیفیت سے عطا ہوتی ہے جب دولتوں سے نفرت ہونے لگتی ہے اور انسان لٹنے کے باوجود بھی جو کچھ بیچ چکا ہوتا ہے وہ بھی خدا کے رستے میں لٹانا شروع کر دیتا ہے اس لئے ہرگز حوصلہ نہ ہاریں، جتنے لمبے دن بھی خدا نے آزمائش کے ڈالنے ہیں ہاں یہ دعا ضرور کرتے چلے جائیں کہ اے اللہ ! ہمارے گناہ ہماری راہ میں حائل نہ ہو جائیں ، اے خدا! ہماری وہ کمزوریاں جو ہمیں نظر آ رہی ہیں وہ جماعت کے لئے وبال نہ بن جائیں۔آج دن نہیں ہیں تیری ناراضگی کے اے خدا! آج ہم کیسے برداشت کریں گے دشمن بھی ہمیں غضب کی آنکھ سے دیکھے اور ہمارا آقا ومولیٰ جس کے لئے ہم مرتے اور جیتے ہیں وہ بھی ہم سے ناراض ہو جائے اس لئے گناہ گار نہ ہلاک ہوں ، آج ہم سے حساب نہ لے، آج ہم سے بخشش کا سلوک فرما، آج ہم سے رحم کا سلوک فرما، آج ہم سے مغفرت کا سلوک فرما اور ہمیں ثبات قدم بخش تا کہ جتنی دیر تو چاہے ہم کامل ہمت اور استقلال کے ساتھ تیری راہ میں آگے قدم بڑھاتے رہیں یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جس کا تو نے وعدہ دیا ہے اور ہمیں غیروں کے مقابل پر عظیم نصرت اور فتح عطا۔آمین۔