خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 441

خطبات طاہر جلد ۳ 441 خطبه جمعه ار اگست ۱۹۸۴ء عجیب نظارہ دیکھا کہ میری بچی جو چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے وہ روتی روتی ہم سے پہلے آگے نکل کھڑی ہوئی اور ربوہ پہنچے تو مسجد کی طرف دوڑی اور سب سے آگے بڑھ کر وہ اس بات کی منتظر بیٹھی تھی کہ جب آواز آئے کہ کون قربانی کے لئے تیار ہے تو سب سے پہلے میں اُٹھ کر کھڑی ہوں چنانچہ جب آپ مغرب کی نماز کے بعد دوستوں سے مخاطب ہوئے تو یہ بچی چیخ چیخ کر پکار رہی تھی کہ حضور ہماری جانیں حاضر ہیں لبیک لبیک۔پس ہم تو اُس کو دیکھتے دیکھتے خاموش رہ گئے۔ایک عجیب منظر تھا اس بچی کی کیفیت کا اور بچوں کی یہ جو کیفیت ہے یہ ایک عظیم الشان روحانی انقلاب بر پا کر رہی ہے اُن میں یہ کوئی جذباتی ایسے واقعات نہیں ہیں جو آئے اور گزر گئے بلکہ غیر معمولی طور پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو اللہ تعالیٰ ولی بنا رہا ہے۔ایک ایسے ہی بچے کا ذکر کرتے ہوئے ایک صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظم لیے لیے گنگنا کر پڑھنے لگا تو میرا چھوٹا بچا جس کی عمر نو اور دس سال کے درمیان ہے میرے پاس لیٹ گیا اور نظم سنے لگا اور اس شعر پر اس نے کہا کہ یہ شعر دوبارہ پڑھیں اے خدا اے چارہ ساز در دہم کو خود بچا اے میرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار براهین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ: ۱۳۹) میں نے اسے مکرر پڑھا۔کہنے لگا پھر پڑھیں ، پھر پڑھا، آگے چل کر جب یہ شعر آیا تو پھر بار بار مجھ سے پڑھوایا: تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار براهین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه: ۱۳۹) خیر سارے اشعار پڑھے خاص غور و جذ بے سے لیٹے لیٹے سنتا رہا۔میں بھی ایک خاص کیفیت میں اسے سنا تا رہا۔خدا کی قسم وہ بچہ اس درد سے چیخا کہ ہم سب بھی اسے دیکھ کر رونے لگ گئے۔اس کی امی اسے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹا نمازوں میں یہ کیفیت پیدا کر اپنے اللہ سے، اپنے قادر وتوانا خدا سے جسے وہ دن لانے میں دیر نہیں لگتی ، وہ نظارے واپس لانے میں دیر نہیں لگتی جین کے لئے تم ا، بے چین ہو اس کے حضور دعائیں کرور و نہیں۔خیر وہ سنبھلا اور چپکے سے اٹھ کر اندر جا کر میض پہنی اور