خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 435

خطبات طاہر جلد ۳ 435 خطبه جمعه ۱۰ اگست ۱۹۸۴ء جو کیفیت تھی وہ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے میرے آقا! میرے پاس کوئی زیور کوئی جائیداد نہیں ہم غریب طبقے کے لوگ ہیں لیکن میرے پاس تین لڑکے ہیں میں اپنا ایک بیٹا قربانی کے لئے دینا چاہتی ہوں اسے ؟ : اسے قبول فرمائیں۔ ایک خاتون لکھتی ہیں کہ جب میں نے سنا کہ ہمیں بھی اجازت مل گئی ہے تو میرا دل خوشی سے بھر گیا میرا سارا زیور آج سے چھ سال قبل چوری ہو گیا تھا ایک نکلس ہار اس بکس میں پڑا ہوا ہے جو چوروں کی نظر سے بچ گیا تھا اس ہار کو میں آقا کے حضور اس تحریک میں پیش کرتی ہوں ۔ یہ وہ جماعت ہے جس کو مٹانے کا بعض بد قسمت لوگ منصوبہ بنا رہے ہیں۔ بڑی بد بختی ہے کہ صلى صلى الله جو خلاصہ ہوں کا ئنات کا جن سے انسانیت کی اقدار زندہ ہوں جو گزشتہ مذہبی تاریخوں کو کہانیوں سے نکال کر عمل کی دنیا میں ڈھال دیں ان کو برباد کرنے کے درپے ہو جائے دنیا اس سے زیادہ بد قسمتی اور کیا ہو سکتی۔ اس موقع پر تو آنحضرت ﷺ کی وہ دع یاد آتی ہے جو بدر کے موقعہ پر آپ نے بڑی گریہ وزاری کے ساتھ کی اور حقیقت یہ ہے کہ جس خیمہ میں آپ دعا کر رہے تھے وہی خیمہ تھا جو اس جنگ بدر کو جیتنے کا میدان بن گیا تھا۔ بظاہر ایک لڑائی باہر ہو رہی تھی لیکن ایک لڑائی اس خیمے کے اندر جاری تھی اور وہ دعا کے ذریعے کی جا رہی تھی ۔ آنحضرت ﷺ کی حالت یہ تھی کہ دعا کرتے ہوئے گریہ وزاری کے ساتھ بار بار عروسه آپ کا کپڑا آپ کے کندھے سے نیچے گر جاتا تھا اور حضرت ابو بکر اس کپڑے کو اٹھا اٹھا کر واپس آپ کے کندھے پر ڈالتے تھے اور ایک زلزلہ سابدن پر طاری تھا۔ دعا آپ یہ کر رہے تھے اللهم ان اهلكت هذه العصابة فَلَنْ تُعْبَدُ في الارضِ اَبَدًا ( صحیح مسلم کتاب الجھا دوالسير باب امداد الملائكة في غزوة بدر) کہ اے اللہ ! مجھے ان جانوں کی تو پروانہیں میں تو تیری عبادت کرنے کا عاشق ہوں، مجھے یہ غم کھائے جارہا ہے کہ اے اللہ ! اگر آج ان لوگوں کو تو نے مٹنے دیا ، ان لوگوں کو ہلاک ہونے دیا تو پھر قیامت تک تیری کبھی عبادت نہیں کی جائے گی کیونکہ ان سے بہتر عبادت کرنے والے جنہوں نے مجھ سے عبادت کے راز سیکھے ہیں پھر کبھی پیدا نہیں ہو سکتے تو آج بھی یہ دعائیں کریں خدا کے حضور کہ اے خدا! یہ وہ لوگ ہیں جن کو مٹانے کے دنیا در پے ہے اگر آج تو نے ان کو مٹنے دیا تو انسانیت کی صف لپٹی جائے گی پھر اعلی مذہبی اقدار و اعلی روحانی اقدار دنیا سے ہمیشہ کے لئے غائب ہو جائیں گے، پھر انسان زندہ رکھنے کے لائق نہیں رہے گا اس لئے تو آج ان کو نہ مٹنے دے کیونکہ آج تمام کائنات کا خلاصہ مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقع پر میں جماعت سے یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ گریہ وزاری درست اپنی جگہ بہت رونا