خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 434
خطبات طاہر جلد ۳ 434 خطبه جمعه ار ا گست ۱۹۸۴ء سکتے تھے کہ ان کو کیا کہیں! تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا نام پر بیون رکھ دیا ہے رب والے لوگ ہیں یہ دنیا سے تعلق رکھنے والے لوگ نہیں۔ایک غریب استانی لکھتی ہیں آپ کی باتیں سن کر دل بھر آیا اور آنکھیں نم ناک ہوگئیں قربانی کے لئے دل مچل اٹھا لیکن میرے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں جسکو جماعت کی نذر کر سکوں ،کوئی زیور نہیں کوئی بینک بیلنس نہیں ہاں ایک سفید پوشی کا بھرم ہے تمام اخراجات کے بعد میرے پاس ساٹھ روپے بچتے ہیں جو کہ میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ ہر ماہ چندہ دیا کروں گی ، روزانہ کھانے پینے کے اضافی اخراجات کو امکانی حد تک ختم کرنے کی کوشش کروں گی۔قادیان کی لجنات کے متعلق مجھے ایک رپورٹ ملی ہے اور اس کا مجھے انتظار تھا کیونکہ جب تحریک جدید کی قربانیوں کا آغاز ہوا تھا تو قادیان کی مستورات کو غیر معمولی قربانی کے مظاہرہ کی توفیق ملی تھی اب تو بہت تھوڑی خواتین وہاں رہ گئی ہیں لیکن جتنی بھی ہیں مجھے انتظار تھا کہ ان کے متعلق بھی اطلاع ملے کیونکہ ان کا حق ہے کہ وہ قربانی کے میدان میں آگے رہیں اور قادیان کا نام جس طرح اس زمانے میں خواتین نے اونچا کیا تھا آج پھر اسے اونچا کریں تو الحمد للہ کہ وہاں کی رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے۔صدر لجنہ اماءاللہ بھارت اطلاع دیتی ہیں کہ میں نے قادیان کی لجنہ اور ناصرات کے وعدے نئے مراکز کے لئے حضور کی خدمت میں ۱۶ / جولائی کو لکھے تھے۔حضور کے خطبات نے ایک تڑپ یہاں کی عورتوں میں پیدا کر دی اور محض اللہ کے فضل سے جو کچھ ان کے پاس تھا انہوں نے پیش کر دیا ہے لیکن پیاس ہے کہ ابھی نہیں بھی اتنی شدید تڑپ ابھی ہے کہ اور ہو تو خدا کے کاموں کے لئے اور بھی پیش کر دیں۔چھوٹی چھوٹی بچیوں نے اپنی کجیاں جن میں پانچ پانچ دس دس پیسے کر کر کے کچھ جمع کیا تھا تو ڑ توڑ کر جو کچھ نکلا اللہ کے حضور پیش کر دیا۔اللہ تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ اس وقت تک قادیان کی عورتوں اور بچیوں کا وعدہ زیور کی قیمت لگا کر اور نقدی ملا کر چھیالیس ہزار نو سو تیرہ روپے اور ادا ئیگی چھتیں ہزار آٹھ سو چونسٹھ روپے ہو چکی ہے لیکن قادیان کی لجنہ کی شدید خواہش ہے کہ حضور دعا کریں اللہ تعالی محض اپنے فضل سے ہمیں اور دے اور ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم مزید اس مد میں ادا کر سکیں۔ایک عورت لکھتی ہیں کہ میں نے جب یہ تحریک سنی ، بڑا دردناک خط ہے کہ میرے دل کی کیا حالت ہوئی ، میں نے جب سنا کہ عورتوں نے یہ قربانی کی اور زیوروں کے سیٹ اتارا تار کر دیئے تو دل کی