خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 436 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 436

خطبات طاہر جلد ۳ 436 خطبه جمعه ار ا گست ۱۹۸۴ء چاہئے خدا کے حضور لیکن اس رونے کے نتیجے میں دل میں ایسی نرمی نہیں پیدا ہونی چاہئے جو غیر کے سامنے جھکنے والے دل ہو جائیں ان دو چیزوں میں بڑا فرق ہے لیکن پیشتر اس سے کہ میں اس مضمون کے متعلق کچھ کہوں ایک اور دلچسپ زیور کے سلسلہ میں بات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں احمدیوں کے دماغ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہیں کہ عجیب عجیب ان کو نقطے سوجھتے ہیں اور قربانیوں میں ایک حیرت انگیز حسن اور لطف پیدا کر دیتے ہیں چنانچہ چونکہ زیوروں کی باتیں آج کل ہو رہی ہیں کہ فلاں نے سونا دے دیا فلاں نے زیور دے دیا انگلستان کی ایک خاتون نے مجھے دو اشرفیاں بھیجیں اور کہا کہ مجھے خیال آیا کہ یہ رسم زیور دینے کی تو منشی اروڑے خان صاحب نے شروع کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد وہ حاضر ہوئے تھے اور روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی تھی ، حضرت مصلح موعودؓ نے جب بار بار پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے بیان نہیں ہو سکتا ہے جو ہو گیا ہے میری ساری عمر یہ خواہش تھی کہ میں سونے کی اشرفیاں لے کر کسی دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان کو نذرانہ پیش کروں اور جب سونا نہیں تھا تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موجود تھے جب سونا آیا تو حضور موجود نہیں اس لئے میں حضرت اماں جان کی خدمت میں وہ اشرفیاں پیش کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالنا چاہتا ہوں اور یہ درد کہ کاش مسیح موعود ہوتے مجھے کھائے جارہا ہے۔حضرت مصلح موعود بتایا کرتے تھے کہ بہت مشکل سے ٹکڑوں ٹکڑوں میں اُنہوں نے یہ بات بیان کی تو اس بچی کو خیال آیا کہ اس کا نام بھی تو زندہ ہونا چاہئے اور انہوں نے وہ دوا شرفیاں جو ان کے پاس تھیں وہ مجھے دیں تو ایک نیکی چونکہ دوسری نیکی کی طرف منتج ہو جاتی ہیں مجھے خیال آیا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اس تحریک میں منشی اروڑے خان کو شامل کرنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ہم بھول چکے تھے مگر خدا تو نہیں بھولا چنا نچہ ان کی طرف سے میں نے وہ دواشرفیاں بھی اس تحریک میں شامل کر دیں ہیں اور مجھے بڑا لطف آ رہا ہے اس بچی کے اس خیال پر اور خدا کے اس احسان پر کہ ایک شخص نے کسی خاص جذبے سے قربانی دی تھی اسے زندہ کرنے کے لئے کیسا عمدہ بہانہ بنالیا اور کس ترکیب سے اس نام کو دوبارہ زندہ کر کے اس تحریک میں شامل کر دیا اور اس سے پھر مجھے ایک اور خیال آیا کہ میں نے اپنی والدہ کی طرف سے بھی تو کچھ نہیں دیا چنا نچہ کچھ معمولی ساسونا تھا وہ میں نے اپنی والدہ کی طرف سے بھی دے دیا تو اس طرح ایک نیکی دوسری نیکی کے بچے پیدا کرتی چلی جاتی ہے، جس طرح بدی سے بدی کے بچے پیدا ہوتے ہیں، جس طرح نفرت سے نفرت پھوٹتی