خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد ۳ 423 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء قرار دیں ان کے لئے محمد رسول اللہ رسول نہیں ہیں اور اگر وہ پیروی کریں گے تو قرآن کے بیان کے مطابق تو ہم ان کو قتل کریں گے۔گویا کچھ قتل کرنے والے اس جرم میں قتل ہورہے ہوں گے کہ بچے رسول کریم کی پیروی کر رہے تھے اور یہ سارے جرم قرار دینے پڑیں گے۔سیرت کے اوپر پہلے مضمون تیار ہوگا کہ یہ یہ باتیں ہیں جو سیرت کا حصہ ہیں اور اول سے آخر تک سارے جرائم بن جائیں گے ان کے لئے جن کو یہ غیر مسلم سمجھتے ہیں۔یعنی سیرت کی دو شکلیں بن جائیں گی یہی سیرت بنی نوع انسان کے حقوق سے تعلق رکھنے والی سیرت بعض لوگوں کے لئے نیکی اور بعض لوگوں کے لئے جرم تو کسی پہلو سے بھی کوئی عقل کی بات نظر نہیں آتی جس کے یہ پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔تبھی قرآن کریم ایک آیت میں ان لوگوں کے ذہنوں کا نقشہ کھینچتا ہے آلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ (هود: ۷۹) ایک بھی عقل والائتم میں باقی نہیں رہا۔کیوں نہیں دیکھتے بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہم کر کیا ر ہے ہیں۔بہر حال جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے وہ تو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا دامن نہیں چھوڑے گی اور جو یہ لوگ کہتے ہیں کہ میں بار بار کہتا ہوں بڑی شدت اور قوت کے ساتھ کہ لازماً ہم جیتیں گے کیوں کہتا ہوں اس لئے کہ اب یہ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر حملہ کر رہے ہیں اور قرآن پر حملہ کر رہے ہیں۔جس تعلیم سے ہمیں روکتے ہیں وہ قرآن کی تعلیم ہے ، جس سنت سے ہمیں باز رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ محمد مصطفی ﷺ کی سنت ہے اور یہ وہ دو ایسی چیزیں ہیں جن کی خدا سب سے زیادہ غیرت رکھتا ہے۔ناممکن ہے کہ قرآن پر حملہ کرنے دے ان کو اور چھوڑ دے خالی اور سنت محمد مصطفی ﷺ پر حملہ کرنے دے اور باز پرس نہ فرمائے اس لئے ان کا معاملہ تو اب براہ راست خدا سے ٹکر کا معاملہ بن چکا ہے۔جہالت کی حد ہے کہ قرآنی تعلیم پر عمل کرو گے تو ہمیں غصہ آئے گا ، آنحضرت کی غلامی کا دم بھرو گے تو ہمیں اتنی تکلیف ہوگی کہ جب تک تمہیں مار نہ لیں قتل نہ کر لیں تمہیں انسانی حقوق سے محروم نہ کرلیں ہمارا سینہ ٹھنڈا نہیں ہوگا یہ شکل بن چکی ہے اب تو اللہ فضل فرمائے جو قوم کی موجودہ حالت ہے یہ بہت ہی خطرناک ہے اور مظالم میں بڑھتے چلے جاتے ہیں رکتے نہیں ہیں کسی جگہ۔مثلاً میں نے آپ کو سنایا تھا با جوہ صاحب ( مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب ) وغیرہ کا قصہ سنایا کہ کس طرح ان پر ظلم ہوا یعنی بوڑھے اور بزرگ گھروں میں بیٹھے ہوئے اس جرم میں ان کو