خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 424
خطبات طاہر جلد ۳ 424 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء پکڑ کر گھروں سے نکالا گیا کہ آپ نے ایک مولوی کو اغوا کرنے کی کوشش میں شامل تھے۔ان کی عمریں دیکھو ان کا مقام دیکھو ان کا سابقہ ریکارڈ دیکھو تمام دنیا کی پولیس میں سے جو جاہل سے جاہل لوگ بھی ہیں وہ بھی ان باتوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن ایک توقع تھی انصاف کی کہ شاید عدالتوں میں انصاف مل جائے۔اب ان کی حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ نے کل ضمانت یہ کہہ کر مستر د کر دی ہے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے حکم آیا ہے کہ ہم اس مقدمہ کو تم سے لے کر فوجی عدالت میں دینا چاہتے ہیں اس لئے تم با اختیار ہی نہیں ہو کسی ضمانت قبول کرنے کے یعنی صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ میں کچھ بھی نہیں ہے جھوٹ ہی جھوٹ ہے لیکن یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ہم نے ظلم سے باز نہیں آنا اس لئے کب تک خدا ان کو ظلم کی اجازت دیتا ہے یہ تو ہم نہیں کہہ سکتے لیکن ہر قدم سفا کی کی طرف اٹھ رہا ہے یہ ہم کہ سکتے ہیں اور کب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ تقدیر ظاہر ہوگی جو مجرموں کے حق میں ہمیشہ ظاہر ہوا کرتی ہے یہ بھی ہم نہیں کہہ سکتے لیکن یہ جانتے ہیں کہ جب تک اللہ ہمیں آزمائے گا ہم صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے اور مسلمین کہتے ہوئے جان دیں گے راضی برضا ر ہتے ہوئے اپنا سب کچھ لٹائیں گے ایک بھی ایسا احمدی نہیں ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ جو خدا تعالیٰ پر شکوہ کرتا ہوا مر رہا ہو۔وہ مالک ہے لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ ہم تو اس پر ایمان لائے ہیں اس لئے جب تک چاہتا ہے اپنے بندوں کو آزمائے گا۔ہم انشاء اللہ تعالیٰ غلامی کی ساری شرطیں پوری کریں گے۔یہ بات کبھی نہ چھوڑیں اپنے ہاتھ سے۔صبر حضرت اقدس محمد مصطفی علی اللہ سے سیکھیں اور جس طرح آپ نے صبر کیا ہے ویسا صبر کریں اس صبر کے دوران کئی لوگ ہیں جو مظلومی کی حالت میں مرے تھے۔کتنے ہی تھے جو تکلیفیں برداشت نہ کر کے جان دے گئے بیشتر اس کے کہ فتح مکہ ہوتی۔امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضور ﷺ کی زندگی کے تقریباً تمام دن ہی صبر میں گذرے ہیں۔فتح مکہ کے بعد تو صرف ایک سال آپ زندہ رہے اس دنیا میں اور پھر جلد وصال ہو گیا۔اور مدینہ کا دور بھی تو مظلومیت ہی کا دور تھا ادھر سے حملے ہورہے تھے غیروں کی طرف سے ادھر سے گھر کے اندر یہودی ریشہ دوانیاں کرتے تھے۔کہیں زہر دیا جاتا تھا، کہیں چکی کے پاٹ پھینکے جاتے تھے اوپر سے، کہیں مسلمان عورتوں کی بے عزتیاں کی جاتی تھیں اور دکھ دیا جاتا تھا آنحضور ﷺ کو تو ساری زندگی دکھوں میں کئی ہے۔آخری جو ایک سال یا ڈیڑھ سال کی زندگی ہے وہ ہے جس کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ