خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 418

خطبات طاہر جلد ۳ 418 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء نہیں ہے تو حضرت مسیح موعود کا انکار کرنا اس کے لئے کون سا مشکل ہے۔سو بسم اللہ کر کے وہ یہ دو شرطیں پوری کرے گا۔تو یہ وجہ ہے جو انہوں نے چنی ہے، تبلیغ چھوڑ دی ہے خود، ہمیں جو تبلیغ والے معاملے میں ایک استثناء ہے میں اس لئے الگ اس کو کہہ رہا ہوں ، غیروں میں تبلیغ چھوڑ دی ہے اور ہمیں تبلیغ سے اس لئے منع کرتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں تمام دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے گا وہ تو براہ راست Hit کرتی ہے چونکہ تبلیغ اس لئے یہ مشکل بنی ہوئی ہے ان کو ور نہ تو خود بھی تبلیغ چھوڑ بیٹھے ہیں۔عام دستور تو یہ ہے کہ جو خود چھوڑ بیٹھے ہیں ان میں منع نہیں کیا جو خود کرنا آسان تھا وہ منع کر دیا۔ایک تیسری چیز تبلیغ ہے وہ کیوں فرق کیا گیا ہے وہ میں بتارہا ہوں کیونکہ تبلیغ کے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تبلیغ کی ان کو اجازت دی گئی تو اس تیزی کے ساتھ جماعت پھیلتی چلی جائے گی کہ ایک دن ہماری اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی اور ان کی اقلیت اکثریت میں تبدیل ہو جائے گی اس لئے مجبوری ہے۔بہر حال یہ تمام امور وہ ہیں جو آنحضرت علیہ فرمایا کرتے تھے اور جن کی طرف لوگوں کو بلایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں یعنی محمد رسول اللہ علے کی نقالی کرتے ہیں أُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ جو لوگ اللہ سے پیار کرتے ہیں، اللہ کو چاہتے ہیں وہ نیک لوگ نجات دہندہ ہیں۔جو لوگ آخرت کے دن سرخرو ہونا چاہتے ہیں وہ نجات دہندہ ہیں۔تو یہ سارے قانون پہلے بنانے پڑیں گے کہ اللہ کو چاہنا جرم ہے اس ملک میں ، یوم آخرت میں سرخرو ہونا جرم ہے ، آنحضرت علی کی نیک باتوں میں پیروی جرم ہے اور پھر نیک باتوں کی تفصیل بتائی جائے اور جتنی بڑی نیکی اتنی بڑی سزاملنی چاہئے کیونکہ جرم بھی اتنا بڑا ہوگا۔اگر سچائی سب سے بڑی نیکی ہے تو سب سے بڑی سزا سچائی پر ملنی چاہئے اور آپ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ ایسی باتیں ہیں جو ہو نہیں سکتیں ، کچھ ہو بھی چکی ہیں ان میں سے۔اس وقت پاکستان دنیا کا ایک واحد ملک ہے جہاں سچائی کے جرم میں سزا مقرر ہو چکی ہے مثلاً جب احمدی کو کہتے ہیں کہ تم اپنے آپ کو غیر مسلم کہو تو وہ شخص جو دل سے حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ایمان رکھتا ہو اور قرآن کو واجب التعمیل کتاب سمجھتا ہو اور اس کے سارے ایمان کی بنیادیں وہی ہوں جو قرآن کریم نے مقرر فرمائی ہیں تو جب وہ منہ سے یہ کہے گا کہ میں غیر مسلم ہوں تو جھوٹ بول رہا ہوگا۔پس ایک ہی ملک ہے ساری دنیا میں جہاں جھوٹ پر شاباش مقرر ہوئی ہے اور سچ پر سزا مقرر ہوگئی ہے۔