خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد ۳ 419 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء تو میں نے جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا تھا قرآن کریم کی تعلیم ایسی عظیم الشان تعلیم ہے کہ جب اسکو آپ چھوڑتے ہیں آپ کے اندر کجیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور لغویات آپ کی ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں آپ کے لئے چارہ نہیں رہتا کہ قرآنی تعلیم کو چھوڑنے کے بعد لغویات اور کجیوں سے خود بچ سکیں۔تو چونکہ قرآنی تعلیم کے خلاف ایک حکم دیا تھا اسکی لغویت خود بخود ظاہر ہونی شروع ہوگئی۔عملاً یہ پہلا قدم اٹھالیا گیا ہے اس ملک میں کہ سچ بولنے کی سزا تین سال قید با مشقت اور لا متناہی جرمانے بھی ہو سکتے ہیں۔سچ اور جھوٹ کی تعریف اس کے سوا ہو ہی نہیں سکتی کہ جو انسان سمجھتا ہو اس کے خلاف بیان دے۔بیچ یہ نہیں ہے کہ واقعہ وہ بات درست ہے کہ نہیں، سچ یہ ہے کہ جو میں نے دیکھا اور میں نے سمجھا اس کو بیان کروں۔مثلاً زاویہ نگاہ بدلنے سے چیزیں مختلف دیکھی جاتی ہیں۔ایک انسان کی آنکھ میں بیماری ہے وہ سبز رنگ نہیں دیکھ سکتا صرف کالا ہی دیکھ سکتا ہے۔غالباً Colour Blindness اس کو کہتے ہیں ، Red نہیں دیکھ سکتا Green نہیں دیکھ سکتا۔وہ دونوں Black and White یا ان کے Shades نظر آتے ہیں اس کو تو یہ جو شکل ہے اس میں اگر ایک آدمی ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ بتاؤ کیا دیکھ رہے ہو تم اور اس کو سبز رنگ سیاہ نظر آ رہا ہو۔اگر وہ یہ کہے کہ مجھے سبز نظر آ رہا ہے تو جھوٹ بول رہا ہے حالانکہ واقعہ وہ سبز ہے۔اس لئے سچ اور جھوٹ کا تعلق ہر ذات کے اندرونے سے ہے۔واقعہ کوئی چیز بیچ تھی یا نہیں تھی اس بات کا تعلق تحقیق سے ہے اور سب سے زیادہ حقیقی علم اللہ رکھتا ہے۔لیکن جہاں تک انسان کا تعلق ہے سچ اس کو کہتے ہیں جو وہ سمجھ رہا ہے جو وہ دیکھ رہا ہے۔اگر اس کے برخلاف بیان کرے گا تو وہ جھوٹا ہے تو اگر ہم اسلام کو سچا سمجھ رہے ہیں تو اس کے برخلاف بیان کرنے سے لازما جھوٹے ثابت ہوں گے۔ایک خرابی تو ان کو یہ اختیار کرنی پڑ رہی ہے۔دوسرے یہ کہ نہ صرف جھوٹا بنانا چاہتے ہیں بلکہ مذب بنا رہے ہیں یعنی جب کہتے ہیں تم کہو ہم غیر مسلم ہیں تو غیر مسلم بغیر تعریف کے تو کوئی چیز نہیں ہے نہ کسی مذہب کا نام ہے۔غیر مسلم ایک منفی نام ہے جس کے نتائج بھی محض منفی ہیں یعنی ہندو سکھ کہنا تو اور بات ہے لیکن جب غیر مسلم کہتے ہیں تو یہ ایک منفی مذہب ہے جس کا مطلب ہے کہ مسلم نہیں ہو، اسلام کی تکذیب کرنے والے ہو۔اس لئے کہتے ہیں تم اپنے آپ کو غیر مسلم کہو یعنی انکار کرو کہ خدا ایک ہے اس کے بغیر مسلم نہیں بن سکتا۔یہ کہو کہ حضرت