خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 412
خطبات طاہر جلد ۳ 412 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء باطن، عقل سے کوئی دور کا بھی اس بات کو تعلق نہیں اس لئے اس کے مختلف پہلو میں آج آپ کے سامنے کھول کر بیان کرنا چاہتا ہوں کیونکہ عام طور پر جب کوئی غیر احمدی مسلمان احمدیوں کو کہتا ہے کہ تمہارا کیا حق ہے؟ ہمارے جیسے کیوں بنتے ہو؟ چھوڑ دو بننا، کیا فرق پڑتا ہے تمہارا مذہب اور ہے تمہیں ہم نے غیر مسلم کہ دیا ہے۔تو عام بیچارے جو سادہ لوح احمدی ہیں ان کو پوری طرح جواب بن نہیں پڑتا کہ کیا کہیں؟ دل تو گواہی دیتا ہے کہ بالکل لغو بات کر رہا ہے لیکن مجلس میں دوسروں کو سمجھانے کی خاطر کھل کر کیا تجزیہ ہونا چاہئے اس کا کیا اس پر تبصرہ ہونا چاہئے؟ ان باتوں سے بعض احمدی بے بہرہ ہیں اس لئے تفصیلی تربیت کی خاطر مجھے یہ چیزیں باری باری لینی پڑی رہی ہیں یعنی موضوع کے طور پر ان کو میں چن رہا ہوں باری باری۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر کسی مذہب کا بھی Patent ہوسکتا ہو اور وہ مذہب والے یہ پسند نہ کریں کہ دوسرے اسے اختیار کریں تو ان کو Patent کروانے چاہئیں مذہب۔ساری دنیا میں Patent کا ایک رواج ہے اس کو اخذ کریں اور اپنے اپنے مذاہب Patent کروائیں کہ جو شخص بھی اس مذہب کی نقل کرے گا اس کے اوپر یہ سزا یا یہ جرمانہ ہوگا اس کو۔مذہب کے قانون کے تابع تو کوئی سزامل نہیں سکتی مذہب کی نقالی کی اس لئے دنیا کے قانون کے رو سے ہوسکتی ہے سزا جیسا کہ Patent کی ہو جایا کرتی ہے تو اگر دنیا میں یہ ممکن ہو تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم ان کی نقالی کرتے نہیں ہیں بلکہ ان کی نقالی سے ہمیں کراہت آتی ہے۔جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہماری نقالی کرتے ہو۔ہم ان کی نقالی کیسے کر سکتے ہیں نہ تو ہم ان کی طرح اذان سے پہلے گانے گاتے ہیں ، نہ اذان کے بعد وہ پڑھتے رہتے ہیں کچھ اور گھنٹہ گھنٹہ لوگوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں ، ان کے گھروں کے آرام میں مخل ہوتے ہیں، بیماروں کو تکلیف۔پہنچاتے ہیں بجائے اس کے کہ آنحضرت ” کی اذان پر عمل کیا جائے آپ " کی سنت پر عمل کیا جائے ، آج کل جو اذانیں دی جارہی ہیں ان کے تو رنگ ہی بالکل مختلف ہیں۔صبح بعض دفعہ اذان سے پہلے آدھ آدھ گھنٹہ ہمارے ربوہ میں تو مولوی صاحب خاص طور پر تنگ کرنے کی خاطر بعض دفعہ کئی کئی گھنٹے پہلے گانے گایا کرتے تھے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ Recorded ہوتے تھے۔ان کو کیا ضرورت تھی خوامخواہ آپ بھی ساتھ اٹھیں، ان کا مقصد تو لوگوں کو تنگ کرنا تھا اس لئے وہ ٹیپ ریکارڈر