خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 411
خطبات طاہر جلد ۳ 411 خطبه جمعه ۳ را گست ۱۹۸۴ء منایا جاتا ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا میں بڑی بڑی سمجھدار قوموں نے ہمیشہ اپنی تہذیب کی نقالی کروا کر حکومت کی ہے اور بر عکس طریق کو پسند نہیں کیا چنانچہ آپ دیکھیں کہ انگریزی حکومت کا جب عروج تھا تو خصوصیت کے ساتھ یہ اپنی تہذیب کی نقالی کرواتے تھے۔رنگ تو نہیں بدل سکتے تھے جو کالے تھے وہ کالے ہی رہتے تھے لیکن ادائیں ساری صاحبوں والی ہو جاتی تھیں۔وہی اٹھنا بیٹھنا وہی معیار وہی صبح کے وقت نماز کے لئے عادت نہ بھی ہو اٹھنے کی تو بیڈ ٹی کی خاطر اٹھنا پڑتا تھا۔تو ساری ادا ئیں اس قوم نے اپنی دے دیں غلاموں کو غلام بنانے کے لئے اپنے رنگ میں رنگین کر کے۔تو ایسی چیزیں ملتی ہیں رومن ایمپائر کے متعلق بھی جب وہ عروج پرتھی یہی پتہ چلتا ہے کہ لوگ رومن ایمپائر میں رہنے والوں کی نقل کیا کرتے تھے۔انگریزی میں ایک محاورہ بھی ہے While in Rome do as Romans do جب تم روم میں جاؤ تو وہی کیا کرو جیسار و من کرتے ہیں کیونکہ اچھا لگتا ہے اس میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے تو ایسی مثالیں تو ملتی ہیں کہ غیر قوموں نے اپنی نقالی پر مجبور کیا ہو۔چنانچہ آج کل ہندوستان میں ہندومذہب کے برخلاف بعض مسلمانوں کو اپنی نقالی پر مجبور کیا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے یہ بات سیکھ لی ہے مغربی قوموں سے کہ جب تہذیب میں اپنے ساتھ شامل کر لو تو قو میں اثر کے تابع آجایا کرتی ہیں۔چنانچہ کلکتہ میں خصوصیت کے ساتھ ایک دفعہ مجھے دیکھنے کا موقع ملا۔عام طور پر مسلمانوں کی تہبند اور طرح باندھی جاتی ہے اور ہندو اور طرح تہبند باندھتے ہیں اسی طرح پگڑی کے انداز میں بھی فرق ہے لیکن وہاں مجھے دیکھ کر یہ بڑا دکھ پہنچا کہ مسلمانوں نے ہندؤوں جیسی تہبند باندھنی شروع کر دی اور انھیں کی طرح پگڑیاں پہننے لگ گئے اور جب میں نے پتہ کیا بعض مسلمان لیڈروں سے اس بات پر گفتگو کی تو انہوں نے کہا ہمارا بھی فائدہ ہے ان کا بھی فائدہ ہے۔وہ پسند کرتے ہیں اس بات کو ہم ان جیسے ہو جائیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں پھر اس پر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔ہمارا معاشرہ ایک ہو جائے گا اور ہمیں فوائد ہیں یہ جو راہ چلتے لوگ چھرا گھونپ دیتے ہیں وہ تو نہیں گھو نہیں گے پھر۔تو ہندوستان میں بھی اپنے مذہب کے برخلاف عقل والی قوموں سے عقل سیکھی اور اپنے پیچھے چلانے کے لئے وہی رخ سکھائے ان کو جو رخ ان کے اپنے تھے تا کہ ذہنی طور پر یہ ہمارے تابع ہو جائیں۔لیکن ہم سے جو یہ کہا جارہا ہے کہ تم ہماری نقالی نہ کرو اس سے ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، بہت دکھ ہوتا ہے۔یہ ایک عجیب واقعہ ہے جس کے اندر کوئی بھی عقل کا پہلو مضمر نہیں ، نہ ظاہر ہے نہ