خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 395
خطبات طاہر جلد ۳ 395 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء چھوڑی نہیں ہے باز نہیں آرہے، سمجھا یا تمہیں کئی دفعہ کئی طریقے سے کہ بس کرو کافی ہو گئی لیکن رک نہیں رہے، تو اس فتنے کا تو پھر یہی علاج ہے کہ تمہیں سنگسار کر دیا جائے۔حضرت شعیب کی قوم نے بھی اُن سے یہی سلوک کیا۔چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے کہا۔لَنُخْرِجَنَّكَ يُشْعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ کہ اے شعیب! تمہارا ہم نے یہ علاج سوچا ہے کہ تمہیں سنگسار تو نہیں کریں گے لیکن تمہیں اپنے گھروں سے بے وطن کر دیں گے، تمہارے تمام شہری حقوق چھین لیں گے۔اَو لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا یا تمہیں واپس ہماری ملت میں لوٹ کر آنا ہوگا یعنی ارتداد کی ایک یہ بھی سزا سوچی گئی۔وہ کہتے رہ گئے اَوَلَوْ كُنَّا کر ھیں کہ اگر دل نہیں مانے گا تو کیسے تمہاری ملت میں لوٹ آئیں گے لیکن کسی نے ایک نہیں سنی۔یہی مضمون قرآن کریم آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے اور متفرق سورتوں میں قصص انبیاء کے طور پر جو واقعات بیان فرماتا ہے، اس میں یہی مضمون مختلف رنگ میں مختلف شکلوں میں مختلف مواقع کے اوپر قرآن کریم کھولتا چلا جارہا ہے۔فرماتا ہے اُس کے بعد ابراہیم کی باری آئی اور ابراہیم سے بھی یہی کہا خود اس کے چچا آذر نے جسے باپ کا بھی مقام حاصل تھا اس لئے بطور باپ کے بیان کیا گیا ہے۔اس نے یہی کہا کہ تو باز آجاور نہ تجھے سنگسار کر دیا جائے گا اور پھر یہ بھی کہا ان کی قوم نے کہ تمہارا تو اب اس کے سوا علاج نہیں کہ جلتی ہوئی آگ میں جھونک دیا جائے کیونکہ ارتداد کو کوئی قوم دنیا میں برداشت نہیں کر سکتی۔کیسے ہو سکتا ہے کہ ملت میں فتنہ برپا کیا جارہا ہو اور بنیادی امور میں اختلاف ہو اور پھر جس قوم کو اکثریت حاصل ہے، جس کو طاقت حاصل ہے، وہ آنکھیں بند کر کے اجازت دے دے کہ جو چاہے، جتنا چاہے فتنہ پھیلا تا چلا جائے، کوئی حد ہونی چاہئے۔تمہارا علاج اس کے سوا کوئی نہیں کہ تمہیں زندہ آگ میں جلا دیا جائے۔پھر قرآن کریم حضرت شعیب کے علاوہ صالح کا بھی ذکر فرماتا ہے۔ہود کا بھی ذکر فرماتا ہے حضرت لوط کا بھی ذکر فرماتا ہے اور ہر طرح پھیر پھیر کر تصریف آیات کے ذریعے اس بات کو ثابت کرتا چلا جاتا ہے کہ مذہب کی معروف تاریخ سے لے کر حضرت اقدس محمد مصطفی عملے کے زمانے تک ہمیشہ انسان نے یہ حق اپنے لئے اختیار کیا، اسے اپنایا اور اس پر عمل کیا۔چنانچہ حضرت لوط