خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 396
خطبات طاہر جلد ۳ 396 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء کو مخاطب کرتے ہوئے ان کی قوم نے جو کہا اُس کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِةٍ إِلَّا أَنْ قَالُوا أَخْرِجُوهُمْ مِّنْ قَرْيَتِكُمْ ۚ إِنَّهُمُ اُ نَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ (الاعراف:۸۳) بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں یہ لوگ ، لوط اور لوط کے ماننے والے، ان کا تو ایک ہی علاج ہے کہ اگر یہ اتنے پاکباز بنتے ہیں تو اپنے شہروں سے ان کو نکال دو اور بے وطن کر دو۔تو کوئی ایک بھی نبی ایسا نہیں ہے جس کے زمانے میں یہ دونوں واقعات دہرائے نہ گئے ہوں۔بہت سی آیات میں خدا تعالیٰ کھول کر بیان فرماتا ہے کہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تم باطل پر ہو ہم حق پر ہیں، ہمارے آباؤ اجداد کا مذہب چلا آ رہا ہے ، تم نے بدامنی پھیلا دی ہے، تم نے فتنہ وفساد برپا کر دیا ہے، تم ایک کو دوسرے سے الگ کر رہے ہو، ہر قسم کے بظاہر جائز عذرتراشے گئے لیکن بنیادی دعویٰ یہی تھا کہ وہ انسان جسے اکثریت حاصل ہوا سے یہ لازمی حق ہے کہ اقلیت کو اگر وہ جھوٹ پر سمجھے تو اُسے تبلیغ کی اجازت نہ دے اور اختلاف مذہب کے نتیجے میں نہ صرف جبر کا حق ہے بلکہ اگر کوئی ہماری قوم میں سے نکل کر دوسرے عقیدے میں داخل ہو جائے تو اسے قتل کرنے کا بھی حق ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی بعینہ یہی ہوا اور قرآن کریم کھول کر اس مضمون کو بیان فرما رہا ہے اور تاریخ اسلام اس پر خوب تفصیل سے روشنی ڈال رہی ہے کہ یہی دو باتیں آپ کے وقت میں بھی بیان کی گئیں کہ تم ہماری ملت سے پھر رہے ہو اس لئے تمہارا علاج موت ہے اور ہر قسم کی سزائیں دینا ہمارا حق ہے کیونکہ ہم اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہیں ،تمہیں باطل پر سمجھتے ہیں اور تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کسی قیمت پر یہ نہیں ہوگا کہ باطل جو چاہے فساد پھیلاتا پھرے، فتنے کھڑا کرے اور حق چپ کر کے سنتار ہے اور تبلیغ کی اجازت دے دے۔یہ کیسے ممکن ہے؟ چنانچہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے ساتھی شدید تکلیفوں اور مصائب کے باوجود جب تبلیغ سے رکے نہیں تو وہ مشہور واقعہ جو عام طور پر مسلمان بچوں کو بھی علم ہے وہ پیش آیا کہ ابو طالب کے پاس اُن کی قوم گئی اور بڑا واویلا کیا اور کہا کہ دیکھو تمہاری پناہ حاصل ہے تمہارے بھتیجے کو لیکن چونکہ اب فتنہ و فساد کی حد ہوگئی ہے اور ہمارے معبودوں کو وہ گالیاں دیتا ہے، انہیں جھوٹا قرار دیتا ہے، جن کی ہم عزت کرتے ہیں ان کو بے عزت کرتا ہے اور ہماری قوم میں افتراق پیدا کر رہا ہے اس لئے اب مزید