خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 394 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 394

خطبات طاہر جلد ۳ 394 خطبہ جمعہ ۲۷/ جولائی ۱۹۸۴ء سو فیصدی اتفاق ہے۔اس کے باوجود آپس میں بنیادی اختلافات انہیں امور پر موجود ہیں جن میں بنیادی اتفاق ہے مثلاً غیر از جماعت علما جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے اور قرآن سے ثابت ہے اور تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی یعنی باطل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ حق کو تبلیغ کرے۔اس میں ہمارا اور ان کا کوئی بھی بنیادی اختلاف نہیں کیونکہ یہ امر واقعہ ہے کہ قرآن سے یہ ثابت ہے سو فیصدی قطعی طور پر ثابت ہے کہ جب سے مذہب کی تاریخ معلوم ہے ہمیشہ سے یہی دستور چلا آیا ہے کہ مرتد کی سزا قتل قرار دی گئی اور تبلیغ کی اجازت نہیں دی گئی ان کی طرف سے جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے اور دوسرے کو باطل پر سمجھتے تھے۔تو جماعت احمد یہ اس حقیقت کا کیسے انکار کرسکتی ہے جو قرآن سے ثابت ہو اور مذہب کی تاریخ سو فیصدی اتفاق کے ساتھ اس کے حق میں گواہی دیتی ہو۔جن آیات کریمہ کی میں نے تلاوت کی ہے متفرق سورتوں میں سے، اُن میں اسی مضمون کو بیان کیا گیا ہے مثلاً حضرت نوح کو مخاطب کر کے ان کی قوم نے کہا قَدْ جَدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَ النَّار نوح! تو نے بہت تبلیغ کرلی ہمیں ، بہت جھگڑا کیا ہم سے حد ہی کر دی ہے تو نے تبلیغ کی لیکن اب مزید اجازت نہیں دی جاسکتی۔اب تو یہی ہوگا کہ جس چیز کا تو دعوی کرتا ہے کہ تمہیں بطور سزا ملے گی اب اپنے رب کو پکارو اور سزا کی دعائیں کرو اس سے زیادہ ہم مزید تمہیں تبلیغ کی اجازت نہیں دے سکتے۔تو جب قرآن کریم بتا رہا ہے کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے انھوں نے ان لوگوں کو جن کو وہ باطل پر سمجھتے تھے تبلیغ کی اجازت نہیں دی تو ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں یہ موجود نہیں، یہ تو بنیادی حقیقت ہے۔پھر یہ کہنا کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے یہ بالکل غلط بات ہے۔قرآن کریم سے ثابت ہے کہ مرتد کی سزا قتل ہے یعنی بعض لوگوں کے نزدیک اور مذہب کی تاریخ اس کو ثابت کرتی ہے۔چنانچہ اگلی آیت میں جو میں نے تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت نوح کو مخاطب کر کے ان کی قوم نے کہا کہ اب تو تیرا علاج سوائے اس کے کوئی نہیں ہے کہ تجھے سنگسار کر دیا جائے کیونکہ تبلیغ سے تو باز نہیں آرہا اور مرتد کرتا چلا جارہا ہے ، باتوں سے نہیں مانا اس لئے اب ہمیں مقابل پر عمل کرنا پڑے گا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حق کھلی چھٹی دے دے فتنے کی اور باطل کھل کھیلے اور جو چاہے کرتا چلا جائے حق کے ساتھ یہ تو اجازت نہیں دی جاسکتی اس لئے چونکہ ہم تمہیں باطل پر سمجھتے ہیں اور چونکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اس لئے ہمارا حق ہے کہ ہم تمہیں زبر دستی روکیں تو نے فتنہ پھیلانے میں کوئی کسر