خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 393
خطبات طاہر جلد ۳ 393 خطبہ جمعہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء مخالفین انبیاء کا بندش تبلیغ اور قتل مرتد کا مطالبہ خطبه جمعه فرموده ۲۷ جولائی ۱۹۸۴ء بمقام مسجد فضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: قَالُوا لِنُوحُ قَدْ جَدَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُ نَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصُّدِقِينَ۔(هود: ۳۳) قَالُوا لَبِنْ لَّمْ تَنْتَهِ يُنُوْحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرُجُوْمِينَ ) (الشعراء: ۱۱۷) لَنُخْرِجَنَّكَ يُشُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كُرِهِينَ (الاعراف : ۸۹) ہمارا غیر احمدی علما کے ساتھ جو اختلاف ہے اس کی تفاصیل پر غور کر کے دیکھیں تو یہ ایک عجیب بات سامنے آتی ہے کہ بنیادوں پر اتفاق ہوتے ہوئے بھی اور سو فیصدی اتفاق ہوتے ہوئے بھی بنیادی اختلافات موجود ہیں۔یہ حیرت انگیز تضاد ہے جو بظاہر سمجھ نہیں آسکتا لیکن جب میں اس کی تفصیل بیان کروں گا تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ بالکل یہی صورت ہے یعنی بنیادوں پر