خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد ۳ 30 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء تک بس چلتا ہے اپنے فرض کو پورا کرتا ہوں فرمایا: ”بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے بھی دعا نہ کی جائے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا“۔( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۶۸) یہ ہے رحم کا مقام، عفو اور مغفرت سے آگے رحم کا مقام۔صرف یہ نہیں کہ معاف کر دیا جائے اس کے لئے دعا نہ کی جائے اس وقت تک سینہ صاف نہیں ہوتا ، یہ بہت بڑا گہرا فطرت کا راز ہے۔جب آپ دشمن کے لئے دعا کرنے کی کوشش کریں تو اس وقت آپ کو پتہ چلے گا کہ کتنا مشکل کام ہے بڑا زورلگا نا پڑتا ہے پھر بھی بعض دفعہ دعا نہیں نکلتی کہ ایسا ظالم آدمی جس نے یہ حرکتیں کی ہیں اور کرتا چلا جاتا ہے اس کے لئے دعا کیسے کروں ، معاف کر دیا، چلیں چھوڑ دیا اس کا پیچھا ، اس سے آگے میں کس طرح بڑھ جاؤں کہ اے اللہ اس پر رحم فرما۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ دعا کرو گے تو پھر یقین ہوگا کہ تمہارا سینہ صاف ہو چکا ہے اور دعا کے لئے بھی تین دفعہ کی شرط لگائی۔جب تک کم از کم تین دفعہ تم اپنے دشمن کیلئے دعا نہیں کرتے تمہارا سینہ صاف نہیں ہوسکتا۔اس گر کو باہر تو الگ رہا اپنے گھروں میں تو ذرا استعمال کر کے دیکھیں۔بیوی نے خاوند سے دیکھ پایا ہو اس وقت وہ اس کے لیے دعا کرے۔خاوند نے بیوی سے دکھ پایا ہو اس وقت وہ اس کے لئے دعا کرے۔اپنے بچوں سے دکھ پایا ہوان کے لئے دعا کرے۔بچوں نے ماں باپ سے دکھ پایا ہوان کے لئے دعا کر رہے ہوں۔پھر دیکھیں سینے کس طرح صاف ہوتے ہیں۔یہ عارف باللہ کا کلام ہے کسی عام انسان کا کلام نہیں ہے۔ایک صاحب تجربہ کا کلام ہے جس کو خدا نے اس زمانہ کے لئے مامور بنایا تھا۔وہ ان تجربوں سے گزرا ہے اور پھر یہ موتی نچھاور کر رہا ہے ہمارے اوپر اس لئے بڑی قدر کے ساتھ ان کو پکڑیں، فرماتے ہیں: ” جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا۔۔۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے۔آنحضرت ہ آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے۔“