خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 29
خطبات طاہر جلد ۳ 29 29 خطبه جمعه ۱۳؍ جنوری ۱۹۸۴ء اے گنجے تو اپنے سر کی فکر کر تیرے سر پر تو بال کوئی نہیں اور تو دوائیاں بیچتا پھر رہا ہے گنج کے علاج کی۔یہ تو زیب نہیں دیتا تجھے۔تو بہت اہم بات ہے یہ کوئی معمولی بات اس کو نہ سمجھیں۔اپنے گھروں سے ہر قسم کی لڑائیاں فساد ایک دوسرے پر زیادتیاں ختم کر دیں۔عفو کا سلوک شروع کر دیں مغفرت کا سلوک شروع کر دیں۔رحم کا سلوک شروع کر دیں اور اس کا فائدہ آپ کو بھی پہنچے گا۔بدلہ لینے والے گھروں میں سکون کبھی نہیں میں نے دیکھا ، جو دکھ ہیں بے چینی وہ جہنم میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے، آگیں بھڑک جاتی ہیں دلوں میں، ایک جرم سے دوسرا جرم آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔اور بعض ایسے ظالم ہو جاتے ہیں ماں باپ کہ اپنی اولاد سے بھی ایسا ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ وہ واقعات سن کر بھی انسان حیران رہ جاتا ہے۔امریکہ میں ایسے واقعات کثرت سے ہورہے ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کو پکڑ کر دیواروں سے مارتی ہیں اور ان کے سر پھاڑ دیتی ہیں۔بعض آدمیوں نے ایسے مظالم کئے ہیں اپنے بچوں پر ایسے اور معمولی تعداد نہیں ہے اور ان کے پاگل پن بعضوں کے تو ایسے ہیں کہ وہ سوسائٹی سے کٹ جاتے ہیں لیکن بعض ایسے پاگل ہیں کہ آگے پھر وہ جرائم کرتے ہیں اور ان دکھوں کو پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ایک نفرت دوسری نفرت میں جنم لیتی چلی جاتی ہے۔تو ہم جب ان واقعات کو پڑھتے ہیں تو احمدی کہتا ہے کہ میں نے اس کی اصلاح کرنی ہے۔خدا کی تقدیر کہتی ہے اس سے کہ ٹھیک ہے، تمہیں میں نے کھڑا کیا ہے اس کی اصلاح کے لئے لیکن اپنی تو کرو، اپنے گھروں کو تو جنت بناؤ، جب تک تم جنت نہیں بناؤ گے اگلی دنیا کو جنت دو گے کیسے؟ جو تمہارے پاس ہے ہی نہیں چیز وہ آگے کس طرح تقسیم کرو گے؟ اس لئے ان باتوں کو چھوٹا نہ سمجھیں۔بہت تیزی سے وقت آ رہا ہے کہ اسلام کا غلبہ میں دیکھ رہا ہوں۔کثرت کے ساتھ لوگ اسلام میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تیزی سے بڑھ رہی ہے یہ رفتار، مجھے تو یہ فکر لگی ہوئی ہے کہ ان کو سنبھالیں گے کیسے، ان کی تربیت کیسے کریں گے۔اگر احمدی گھروں میں انہوں نے یہی مصائب دیکھے تو کیا پائیں گے وہ یہاں آکر ؟ اس لئے بڑی جلدی اس طرف متوجہ ہوں اور فکر کریں اپنی۔آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ نصیحت آپ تک پہنچا کر جہاں