خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۳ 31 خطبه جمعه ۱۳/ جنوری ۱۹۸۴ء اس کو کہتے ہیں عارف باللہ کا کلام۔آپ نے تاریخ میں پڑھا ہوا ہے واقعہ اور ہر بیان کرنے والا یہ بیان کرتا ہے کہ اس لئے حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تھے کہ بہن کو اس طرح زخم پہنچا تھا وہ تلاوت کر رہی تھی تو اس کے خاوند نے اس کو مارا اور اس واقعہ نے کا یا بیٹی۔یہ ٹھیک ہے فوری محرک وہی واقعہ بنا تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر اس طرف تھی کہ اصل تو فیصلہ عمر کے مسلمان ہونے کا اس وقت ہو گیا تھا جب حضرت محمد مصطفی علی نے دعا کی تھی ان کے لئے۔پھر بہانے بنتے ہیں سارے۔پھر جو وجوہات آپ کو نظر آ رہی ہوتی ہیں یہ صرف ایک ظاہری مہرے سے ہیں جو چل رہے ہوتے ہیں، مہرہ فی ذاتہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، یہ تو وہ ہاتھ ہے جو اس کو اٹھا کر رکھ رہا ہوتا ہے، وہ دماغ ہے جو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں نے کونسی چال چلنی ہے۔تو دعا ہے جو ساری چیزوں کے پیچھے ایک محرک اول ہے اور خدا کی قوت ہے جو ٹن کا فیصلہ کر کے پھر آگے ایک تقدیر کو حرکت دے دیتی ہے، پھر ہمیں مہرے نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں، آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے: دو شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو“۔اس کلام میں آپ جانتے ہیں کہ ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمانے سے پہلے نظر ڈالی ہوگی لازما۔اس میں ہر قسم کا دشمن آ گیا ہوگا جو بدیوں میں ظلم کرنے میں، گالیاں دینے میں سب سے آگے آگے تھے ان سب کی فہرست ذہن میں رکھی ہے۔پھر فرمایا: در شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے نہیں رہتا۔دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو۔ایک بھی ایسا نہیں اور یہی میں تمہیں کہتا ہوں۔۔۔۔۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہئے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے إِنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَشْقَى جَلِيسُهُمْ۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲۸-۲۹) یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بد بخت نہیں ہوتا اور ان کی نیکی اور ہمدردی سے محروم تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت کو مضبوطی سے پکڑ لیں ، آپ کی