خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 347
خطبات طاہر جلد۳ 347 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء جماعتیں اب آزاد ہیں کہ حسب توفیق عفو کے مطابق قرآنی تعلیم کی حدود میں رہتے ہوئے وہ بھی ان لذتوں سے حصہ پائیں جن لذتوں سے آج اہل یورپ بالخصوص اور اہل امریکہ کا ایک حصہ ایک طبقہ بڑے نمایاں طور پر حصہ پا رہا ہے۔جہاں تک دیگر مالی رپورٹوں کا تعلق ہے یہ جو آخری جمعہ ہوا کرتا ہے مالی سال کا یہ عموماً اسی ذکر پر محدود ہوتا ہے، یعنی مالی قربانی کے ذکر پر اور صدر انجمن اور دیگر جماعت کی جو انجمنیں یا مجالس ہیں ان کی قربانیوں کو جانچنے کا یہ آخری ہفتہ ہوتا ہے کیونکہ اب ایک دو دن تک تو مہینہ اور سال ختم ہو جائے گا لیکن افسوس ہے کہ تفصیلی رپورٹ مجھے پاکستان سے ابھی تک نہیں مل سکی۔پاکستان میں تو منٹ منٹ کی رپورٹ آرہی ہوتی تھی کہ اب یہ حالت ہو گئی ہے، اب یہ ہو گئی ہے لیکن کل تک کل کی جو اطلاع ناظر صاحب اعلیٰ کی فون سے ملی تھی وہ یہ تھی کہ اگر چہ پچھلے سال کے مقابل پر بجٹ غیر معمولی طور پر زیادہ تھا غالبا دو کروڑ چھ لاکھ تھا جو بڑھ کر دو کروڑ ستر کے لگ بھگ پہنچ گیا تھا۔تو کل کی خوشخبری یہ تھی کہ بجٹ سے کئی لاکھ روپے زائد وصولی ہو چکی ہے ابھی تک اللہ کے فضل سے اور یہ جو خدشہ تھا کہ ان حالات میں ان پریشانیوں میں برا اثر نہ پڑے یہ اللہ نے فضل فرمایا ہے نہ صرف یہ کہ برا اثر نہیں پڑا بلکہ بڑھ گیا ہے چندہ اور باقی جو دو دن ہیں ان میں ابھی بہت سی رقمیں آنے والی ہیں، بہت سے حساب دیر میں پہنچتے ہیں۔ہوتا یہ ہے کہ مالی سال جب بند ہو بھی جائے تو چند دن بعد تک بھی اطلاعیں ملتی رہتی ہیں اس لئے امید یہی ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے پاکستان کی جماعتوں کو بجٹ سے لکھوکھہا روپیہ زائد دینے کی توفیق ملتی رہی ہے اس دفعہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ یہی ہوگا۔ان سارے مخلصین کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں ، بہت سی جماعتیں بھی اطلاعیں بھجوا رہی ہیں رمضان کی آخری دعاؤں میں شامل ہونے کی لالچ میں اور وقت تو میرے پاس نہیں ہے کہ انکا تفصیل سے یہاں ذکر کروں۔نہ ہمارے پاس یہاں اس وقت اتنا عملہ ہے کہ سارے کام کو احسن رنگ میں سمیٹ سکے۔عملہ پرائیوٹ سیکریٹری اتنا ہوا کرتا تھا پاکستان میں کہ وہ یہاں کے ایک دو کارکن اور جمع رضا کار یہ ان کے مقابل پر بہت ہی تھوڑے ہیں تعداد کے لحاظ سے لیکن یہ بھی میں ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جماعت انگلستان کو اللہ تعالیٰ وقت کی قربانی کی عظیم الشان توفیق عطا فرمارہا ہے اور یہ چند رضا کارمل کے جو دن رات اپنے آپ کو پیش کئے ہوئے ہیں خدمت میں ہر سارے کام کو