خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 346

خطبات طاہر جلد۳ 346 خطبہ جمعہ ۲۹/ جون ۱۹۸۴ء جماعت اس مقام پر نہیں کھڑی جس پر جماعت آج سے دو مہینے پہلے کھڑی تھی۔اگر آپ پیچھے مڑکر دیکھیں تو جس طرح بہت بلند پہاڑوں پر چڑھنے والے کوہ پیما جایا کرتے ہیں تو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ نیچے نظر ڈالتے ہیں تو بہت پیچھے، بہت نیچے اپنی پرانی جگہیں دکھائی دیتی ہیں۔تو مجھے تو یوں ہی لگ رہا ہے کہ میں ایک عظیم پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا ہوں جماعت کے ساتھ اور ہر آن جب میں نظر ڈالتا ہوں تو پہلا مقام بہت پیچھے اور بہت نیچے دکھائی دیتا ہے اس لئے اس خدا سے کبھی شکوہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوسکتا جو مصیبتوں کے وقت بھی ایسے فضل اور ایسے انعام لے کر آتا ہے۔پس اپنے صبر کا معیار بھی بڑھا ئیں اپنے شکر کا معیار بھی بڑھا ئیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالی آپ کو دن بدن کتنی ترقیات عطا فرمائے گا اور ابھی اس کے نزدیک یہ ابتلا کا دور ہے، انعام کے دروازے ابھی کھلنے والے ہیں۔یہ ابتلا ہیں جو انعام بن کر آ رہے ہیں جماعت کے لئے اور اس کے بدلے میں پھر انعام آنے والے ہیں۔اللہ کے فضلوں کی کوئی انتہا نہیں ہوتی، اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اس کے فضلوں کے سمندر کا کہ جس تک آپ پہنچ کر کہیں کہ اب ہم یہاں پہنچ گئے۔اس لئے آپ کی زندگی اس کے فضلوں کے اندر ختم ہوگی اس کے فضل آپ کی زندگیوں میں ختم نہیں ہو سکتے۔ایسے خدا سے ہم نے تعلق جوڑا ہے ایسے خدا سے سودا کیا ہے۔آخر پر میں اب یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ وہ سب دوست مرد اور خواتین جو مجھے باہر سے خطوط لکھ رہے ہیں کہ ہمیں بھی ضرور موقع دیں کیونکہ یہ آج کل خاص ایام ہیں اور غیر معمولی لذت پاتی ہے جماعت قربانی میں، اس لئے میں اپنے پہلے فیصلے کو بدلتا ہوں اور یورپ اور امریکہ کے مراکز کے لئے ساری جماعت کو اجازت دیتا ہوں کہ جس جس جگہ سے بھی کوئی مخلص کچھ پیش کرنا چاہئے وہ پیش کر دے۔لیکن یہ خیال رکھیں کہ حد اعتدال میں رہیں، بعض اوقات ایسے آتے ہیں قوموں پر جب کہ ابھارنا پڑتا ہے کہ ابھی تمہارا معیار تھوڑا ہے اور بلند کرو۔آج جس دور میں سے گزر رہے ہیں مجھے ا یہ فکر ہے کہ ذرا کم کرو اتنا زیادہ آگے نہ بڑھو کیونکہ مجھے ذہن میں ہمیشہ وہ حقوق آتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے فرض فرما دیئے ہیں اور یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ وہ بنیادی حقوق تلف کر کے کہیں قربانی کی راہوں میں آگے نہ بڑھیں اس لئے توازن کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دوسرے حقوق ادا کرتے ہوئے عفو کا جوطریق خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ جو بچتا ہے پھر وہ سب کچھ پیش کر دو۔تو ساری دنیا کی